دریائے ہنزہ میں سیلاب، شاہراہ قراقرم کا بڑا حصہ بہہ گیا، پاکستان اور چین کا زمینی راستہ منقطع
سیلاب کا اثر
گلگت( مانیٹرنگ ڈیسک ) دریائے ہنزہ میں سیلاب نے شاہراہ قراقرم کا بڑا حصہ بہا دیا، جس کی وجہ سے پاکستان اور چین کا زمینی راستہ منقطع ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں 25 سال بعد پتنگ بازی کی مشروط اجازت، بسنت منانے سے متعلق آرڈیننس جاری
تفصیلات
دریائے ہنزہ میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث مورخون کے علاقے میں شاہراہِ قراقرم کا ایک حصہ بہہ گیا ہے، جس کی وجہ سے شاہراہِ سوست اور گلمت سیکشن ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہو چکا ہے۔ پولیس کی اطلاعات کے مطابق، یہ بندش پاکستان اور چین کے درمیان زمینی رابطے کو متاثر کر رہی ہے اور گاڑیوں کی آمد و رفت رک گئی ہے۔ اس کے علاوہ، شدید بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بالائی گوجال کے مختلف دیہاتوں کا بھی دیگر علاقوں سے زمینی رابطہ کٹ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک فوج کا سپن بولدک میں منہ توڑ جواب، افغان طالبان کی جنگ بندی کی درخواست
حکام کی وضاحت
’’جیو نیوز‘‘ کے مطابق، حکام کا کہنا ہے کہ گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے باعث دریائی کٹاؤ میں اضافہ ہوا ہے، جس سے مورخون اور گرچہ کے مقامات پر شاہراہ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا نے پاک فضائیہ کے ایف۔16 بیڑے کے لئے 686 ملین ڈالر کے اپ گریڈ پیکیج کی منظوری دے دی
حکومت کی کوششیں
گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ جی بی نے شاہراہ قراقرم کی بحالی کا کام تیزی سے مکمل کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: تنخواہ داروں کو ریلیف کے لیے بچت اسکیموں اور بینک ڈیپازٹ پر ٹیکس میں 2 فیصد اضافے پر غور
بند سڑکوں کی صورتحال
ادھر گلگت شندور روڈ خلتی کھٹم کے مقام پر دریائی کٹاؤ کے باعث 12 روز سے بند ہے، جس کی وجہ سے تحصیل پھنڈر اور گوپس کے بالائی علاقوں کا زمینی رابطہ بھی بدستور منقطع ہے۔ اس صورتحال کے باعث، تحصیل پھنڈر اور گوپس میں خوراک اور دیگر ضروری اشیاء کی قلت نے عوام کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔
بحالی کی کوششیں
ایڈیشنل ڈی سی شیر افضل کا کہنا ہے کہ سڑک کی بحالی کا کام 3 روز سے جاری ہے، اور پورا پہاڑ کاٹ کر روڈ بحال کرنا ہوگا، جس میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔ اپر چترال کے راستے خوراک اور ادویات پہنچانے کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔








