روس آزاد اسلامی ریاستیں ہڑپ کرنے کے بعد سکون سے بیٹھ گیا تھا، اس لیے انگریز حکومت نے قندھار ریلوے لائن بچھانے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔
مصنف کی تفصیلات
مصنف: محمد سعید جاوید
قسط: 212
یہ بھی پڑھیں: 26ویں ترمیم سے جنم لینے والی اہم تبدیلیاں چند دنوں میں منظر عام پرآنا شروع ہوجائیں گی۔۔۔صالح ظافر نے تہلکہ خیز انکشافات کر دیئے
انگریزوں کا دفاعی منصوبہ
انگریزوں کے دفاعی منصوبے کا تقاضہ تھا کہ ریل کی اس پٹری کو چمن سے آگے قندھار تک بڑھایا جائے، اس کے لیے سارے انتظامات بھی مکمل کر لیے گئے تھے اور ضروری تعمیراتی سامان بھی چمن پہنچا دیا گیا تھا۔ پھر نہ جانے ایسا کیا ہوا کہ یہ منصوبہ ترک کر دیا گیا۔ غالباً ان کو یقین ہو گیا تھا کہ اب اس سرحد پر ان کی حکومت کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ روس بھی بہت ساری آزاد اسلامی ریاستیں ہڑپ کرنے کے بعد افغانستان کی سرحد پر آ کر سکون سے بیٹھ گیا تھا اور اس کے آگے بڑھنے کے اب کوئی آثار نہ تھے۔ اس لیے انگریز حکومت نے قندھار ریلوے لائن بچھانے کی ضرورت محسوس نہیں کی اور اس مقصد کے لیے لایا گیا فولادی سامان اور مشینری وغیرہ واپس ہندوستان چلی گئی۔ لیکن ابھی تک وہاں تعمیراتی سامان کے پڑے رہنے کے آثار نظر آ جاتے ہیں۔ یوں اس عجیب و غریب سی برانچ لائن کا قصہ بھی ختم ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانیوں کے لیے خوشخبری، 4 روز بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 11 روپے تک بڑی کمی کا امکان
کوئٹہ چمن لائن کی حالت
کوئٹہ چمن لائن پر اب بھی دن میں صرف ایک ہی پسنجر گاڑی آتی اور جاتی ہے، جس کے چھ سات ڈبوں میں بس برائے نام ہی مسافر ہوتے ہیں۔ کچھ برس پہلے تک یہ ریلوے لائن بہت مقبول اور مصروف تھی۔ گاڑی میں کھچا کھچ مسافر بھرے ہوئے ہوتے تھے، اور کوئٹہ سے چلتے وقت اس کے ساتھ افغانستان بھیجا جانے والا سامان، تیل کے ٹینکر اور اجناس خصوصاً گندم کی ترسیل کے لیے مال گاڑی کے ڈبے بھی لگائے جاتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: حمیرا اصغر کی موت 7 اکتوبر کو ہوئی اور وہ مالی بحران کا شکارتھیں: تحقیقات میں انکشاف
تعمیراتی چیلنجز
گلستان اسٹیشن کے بعد چمن تک مسلسل چڑھائی ہے، اس لیے یہاں بھی آب گم اور کولپور کی طرح دوہری پٹڑی بچھائی گئی ہے۔ مسلسل بڑھتی ہوئی بلندی کی وجہ سے مسافر بوگیاں اور مال گاڑی کے ڈبوں کو کھینچنا ایک انجن کے بس میں نہیں ہوتا۔ لہٰذا گلستان اسٹیشن پر مال گاڑی کے ڈبوں کو چھوڑ کر انجن صرف مسافر گاڑی ہی لے کر چمن جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: T Karachi Traders Approach High Court to Halt Islamabad Protests
موجودہ صورتحال
اسی دوران کہیں سے ایک دوسرا انجن گلستان اسٹیشن آتا ہے اور وہاں چھوڑے گئے مال گاڑی کی ڈبوں کو کھینچ کر چمن لے جاتا ہے، جہاں سے سارا مال اتار کر ٹرکوں کے ذریعے افغانستان بھیج دیا جاتا ہے۔ بعدازاں یہی انجن اگلے دن مال گاڑی کے ڈبے لے کر واپس کوئٹہ آجاتا ہے۔ واپسی پر ایک تو مال گاڑی کے زیادہ تر ڈبے خالی ہوتے ہیں دوسرا سارا سفر نشیبی لائن پر ہے اس لیے کوئی دقت نہیں ہوتی۔ یہ سارے کام ایک مربوط نظام کے تحت ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: معروف ٹک ٹاکر سجل ملک کا اداکار عمران اشرف سے کیا تعلق ہے؟ حیران کن انکشاف
ٹرانسپورٹ کا تبدیلی
یہاں بھی آج کل وہی مسئلہ ہے کہ تیز رفتار اور فوری طور پر مل جانے والی سواری مہیا ہو جانے کی وجہ سے مسافر ریل گاڑی کی طرف کم کم ہی مائل ہوتے ہیں اور اس ریل گاڑی کو برائے نام ہی استعمال کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ گاڑی کوئٹہ اور چمن کے درمیان چلائی جاتی ہے۔ افغانستان جانے والا سامان بھی اب ریل گاڑی کے بجائے ٹرکوں اور ٹریلروں میں آنے جانے لگا ہے، یوں مال گاڑی کی افادیت بھی ختم ہوگئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایشین جونیئر سکواش چیمپئن شپ میں پاکستان نے بھارت کو شکست دے دی
بर्फ باری کا اثر
لیکن جب کبھی برف باری کی وجہ سے سڑک کا راستہ بند ہو جائے تو پھراس ریل گاڑی کی محبت جاگ اٹھتی ہے اور ان دنوں اس پر بے تحاشہ مسافر سفر کرتے ہیں، اور تل دھرنے کو جگہ نہیں ملتی۔
نوٹ
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








