مانچسٹر پولیس نے قومی کرکٹر حیدر علی پر مقدمے کی تفصیل جاری کر دی
مانچسٹر پولیس کا حیدر علی کے بارے میں بیان
مانچسٹر(ڈیلی پاکستان آن لائن) مانچسٹر پولیس نے پاکستانی کرکٹر حیدر علی سے متعلق تفصیلات جاری کردیں۔
یہ بھی پڑھیں: ججز ٹرانسفر کیس: 14 ججز کو چھوڑ کر 15ویں نمبر والے جج کو کیوں ٹرانسفر کیا گیا؟ جسٹس نعیم اختر افغان نے سوال اٹھا دیا۔
جنسی زیادتی کی شکایت
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق مانچسٹر پولیس کا کہنا ہے کہ 4 اگست کو جنسی زیادتی کی شکایت موصول ہوئی تھی، جب کہ یہ واقعہ مبینہ طور پر 23 جولائی کو مانچسٹر کی حدود میں پیش آیا۔ اس الزام میں 24 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا، تاہم تحقیقات مکمل ہونے تک ملزم کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی حملے میں ایران کے 2 نیوکلیئر سائنسدان مارے گئے، پاسداران انقلاب کے سربراہ کمانڈر حسین سلامی کی بھی شہادت کی متضاد اطلاعات
حیدر علی کی صورتحال
تاحال حیدر علی یا ان کے وکلا کی جانب سے اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔ گزشتہ روز یہ خبر سامنے آئی تھی کہ خاتون سے مبینہ زیادتی کے الزام میں حیدر علی کی گرفتاری کے بعد انہیں ضمانت مل گئی۔ مانچسٹر پولیس نے حیدر علی کو دو ہفتے بعد دوبارہ طلب کیا ہے اور اس دوران ان پر برطانیہ سے باہر جانے پر پابندی عائد ہے۔ یہ واقعہ پاکستان شاہینز کرکٹ ٹیم کے حالیہ دورہ انگلینڈ کے دوران پیش آیا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے معطلی
دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ نے حیدر علی کو معطل کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ مانچسٹر پولیس کے ایک کرمنل کیس میں شامل تفتیش ہیں، اس لیے انہیں فوری طور پر معطلی کا سامنا کرنا پڑا۔








