خواجہ آصف نے بھارتی ایئر چیف کا بیان مسترد کردیا
وزیر دفاع خواجہ آصف کا ردعمل
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارتی فضائیہ کے سربراہ کے حالیہ بیان کو "تاخیر سے کیا گیا، ناقابلِ یقین اور مضحکہ خیز دعویٰ" قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ بھارتی ایئر چیف نے مئی کے تنازعے کے دوران پاکستان کے چھ طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: مرغی کے گوشت کی قیمت مزید نیچے آ گئی
بھارتی بیان کی ناپختگی
خواجہ آصف نے کہا کہ یہ دعویٰ نہ صرف غیر حقیقی ہے بلکہ اس کا وقت بھی مشکوک ہے۔ انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ یہ ایک ستم ظریفی ہے کہ بھارتی فوجی قیادت کو اُن سیاسی رہنماؤں کی اسٹریٹجک کوتاہی کا دفاع کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جنہوں نے بھارت کو ایک بڑی ناکامی سے دوچار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: 26ویں ترمیم قبول تھی، نہ 27 ویں ترمیم قبول کریں گے، حافظ نعیم الرحمان
پاکستان کا موقف
وزیر دفاع کے مطابق، واقعے کے بعد تین ماہ تک بھارت کی جانب سے اس قسم کا کوئی دعویٰ سامنے نہیں آیا، جبکہ پاکستان نے فوراً بعد بین الاقوامی میڈیا کو تفصیلی تکنیکی بریفنگ دی اور غیر جانب دار ماہرین و مبصرین نے بھارتی نقصان کی تصدیق کی۔ ان کے بقول، آزاد ذرائع، عالمی رہنماؤں، بھارتی سیاست دانوں اور غیر ملکی انٹیلی جنس رپورٹس نے بھی اس بات کو تسلیم کیا کہ بھارت کے متعدد طیارے، بشمول رافیل، تباہ ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: رجسٹرار سپریم کورٹ کو تبدیل کر دیا گیا
بھارتی نقصان کا تذکرہ
خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت کا کوئی بھی پاکستانی طیارہ نشانہ نہیں بنا، بلکہ پاکستان نے 6 بھارتی جنگی طیارے، ایس-400 ایئر ڈیفنس سسٹم اور بغیر پائلٹ کے طیارے تباہ کیے، جبکہ کئی بھارتی فضائی اڈے بھی کارروائی کے بعد غیر فعال ہو گئے۔ لائن آف کنٹرول پر بھی بھارتی نقصانات زیادہ تھے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونا مہنگا
سچائی کا مطالبہ
انہوں نے تجویز دی کہ اگر سچائی پر سوال ہے تو دونوں ممالک آزاد ماہرین کے سامنے اپنے فضائی بیڑوں کا ریکارڈ پیش کریں، مگر ان کے بقول، "ایسا کرنے سے وہ حقیقت عیاں ہو جائے گی جسے بھارت چھپانا چاہتا ہے۔"
خطے کی سلامتی کے حوالے سے وارننگ
وزیر دفاع نے خبردار کیا کہ جھوٹ پر مبنی بیانیے خطے میں اسٹریٹجک غلط فہمیوں اور ایٹمی خطرات کو بڑھا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن "بنیان مرصوص" کے دوران بھی یہ واضح کیا جا چکا ہے کہ پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی ہر خلاف ورزی کا فوری، یقینی اور متناسب جواب دیا جائے گا اور کسی بھی بگڑتی ہوئی صورت حال کی ذمہ داری ان بھارتی رہنماؤں پر عائد ہو گی جو قلیل مدتی سیاسی مفاد کے لیے خطے کے امن کو داؤ پر لگاتے ہیں۔








