5 لاکھ روپے تنخواہ والے سرکاری ملکیتی ایک ادارے کے سی ای او نے 32 ماہ میں 35 کروڑ50 لاکھ کے فوائد حاصل کرلیے
سرکاری کمپنی کے CEO کی غیر معمولی مراعات
اسلام آباد(ویب ڈیسک) ایک سرکاری ملکیتی کاروباری ادارے کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) نے بورڈ کی منظوری سے 32 ماہ کے دوران 35 کروڑ 40 لاکھ روپے سے زائد کے فوائد حاصل کیے۔ یہ سب کچھ “قانونی” طور پر بورڈ کے “آزاد” اختیارات استعمال کرتے ہوئے کیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی مقررہ ماہانہ تنخواہ صرف 5 لاکھ روپے تھی۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، دہشت گرد گرفتار
سرکاری ملکیتی مالیاتی ادارہ
یہ سرکاری ملکیتی ادارہ ایک مالیاتی خدمات فراہم کرنے والی فرم ہے جو بیمے کے شعبے سے متعلق ہے، جیسا کہ سینئر صحافی انصار عباسی نے بیان کیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ اگر دوبارہ مذاکرات کرنا چاہتا ہے تو اسے ایران پر مزید حملوں کے امکان کو مسترد کرنا ہوگا: نائب ایرانی وزیر خارجہ
حکومتی تحقیقات
روزنامہ جنگ کے لئے انصار عباسی نے لکھا کہ حکومت نے اقتصادی وزارت سے منسلک ایک سرکاری ملکیت کے تجارتی ادارے (ایس او ای) کے سی ای او کے معاملے پر معلومات حاصل کی ہیں۔ 2022 میں وفاقی حکومت نے اسپیشل پروفیشنل پے اسکیل III میں 5 لاکھ روپے ماہانہ مقررہ تنخواہ پر تعینات کیا۔ ان کی تقرری کے ایک دن بعد اسی بورڈ نے انہیں بھاری الاؤنسز اور فوائد دے دیے۔
یہ بھی پڑھیں: خطیب جمعہ کے خطبوں میں جذبہ جہاد کو فروغ دیں: مفتی تقی عثمانی
سی ای او کی تنخواہ میں اضافہ
ایک سال بعد، SOE ایکٹ کے تحت حاصل اختیارات کے مطابق اسی بورڈ نے سی ای او کی تنخواہ میں مزید 19 لاکھ روپے ماہانہ کا اضافہ کر دیا، جس کا کل مالی اثر تقریباً 5 کروڑ 20 لاکھ روپے تھا، جن میں سے 1 کروڑ 80 لاکھ روپے جنوری 2023 سے اکتوبر 2023 تک کے گزرے ہوئے عرصے (ریٹروسپیکٹیو) کے طور پر لیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: ابوظبی میں میزائل کا ملبہ گرنے سے مرنے والے دونوں افراد کی شناخت ہوگئی، ایک پاکستانی اور دوسرا بھارتی شہری نکلا
خود ادائیگی کی منافقت
رپورٹ کے مطابق اپریل 2025 میں اپنے عہدے کے آخری دن، سی ای او نے بغیر بورڈ کی منظوری کے خود کو 5 کروڑ 23 لاکھ روپے کی ادائیگی کر دی۔ اس میں 2 کروڑ 88 لاکھ روپے کی سیورنس پے بھی شامل تھی، حالانکہ انہوں نے خود استعفیٰ دے کر ایک اور سرکاری کمپنی میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب غازیوں کی عیادت کیلئے سی ایم ایچ ہسپتال پہنچ گئیں
غیر ملکی دورے اور ان کے اخراجات
اپنے اڑھائی سالہ دور میں، سی ای او نے 23 غیر ملکی دورے کیے جن میں یو اے ای، برطانیہ، جرمنی، سنگاپور، آسٹریلیا، آذربائیجان، ملائیشیا، ہنگری، قازقستان، قطر اور سعودی عرب شامل تھے۔ ان دوروں پر کمپنی کا 5 کروڑ 86 لاکھ روپے کا خرچ آیا، حالانکہ اس سرکاری ملکیت کے تجارتی ادارے (ایس او ای) کے کاروباری دائرہ کار ان دوروں کو جواز نہیں دیتا تھا۔
نتیجہ و خدشات
ذرائع کے مطابق یہ واقعہ ہلا کر رکھ دینے والا ہے اور اس سے یہ خوف تقویت پکڑ رہا ہے کہ دیگر سرکاری ملکیتی تجارتی اداروں (ایس او ایز) میں کیاکچھ ہورہا ہوگا۔ ایس او ای ایکٹ 2023 نے گورننس فریم ورک کو بہتر بنانے کے بجائے نجی شعبے سے آنے والے “آزاد ڈائریکٹرز” کے تعاون اور ملی بھگت سے مینجمنٹ کیلیے اختیارات کے غلط استعمال کو زیادہ آسان کر دیا ہے۔








