زیارت میں سیاحتی مقام سے اسسٹنٹ کمشنر اور بیٹے کا اغوا
اغوا کا واقعہ
کوئٹہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) زیارت سے اسسٹنٹ کمشنر افضل باقی کو ان کے بیٹے سمیت نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا۔ یہ بلوچستان میں ڈھائی ماہ کے دوران کسی اسسٹنٹ کمشنر کے اغوا کا دوسرا واقعہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کسی شخص کو استثنیٰ دینا آئین اور اسلامی تعلیمات کے منافی ہے: حافظ نعیم الرحمان
تفصیلات
نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز کے مطابق افضل باقی اپنے اہلخانہ کے ہمراہ تفریح کے لیے زیزری گئے ہوئے تھے، جہاں مسلح اغواکار انہیں، ان کے بیٹے، گن مین اور ڈرائیور کو گاڑی سمیت اپنے ساتھ لے گئے۔ کچھ فاصلے پر جا کر اغواکاروں نے ڈرائیور اور گن مین کو چھوڑ دیا، گاڑی کو آگ لگا دی، اور اسسٹنٹ کمشنر کو بیٹے سمیت اپنے ہمراہ نامعلوم مقام کی طرف لے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: چکن کی فی کلو قیمت میں 100 روپے کا حیران کن اضافہ
حکام کی جانب سے اقدامات
ڈپٹی کمشنر ذکا اللہ درانی کے مطابق اطلاعات ہیں کہ مغویوں کو خلیفت پہاڑ کی طرف لے جایا گیا ہے۔ علاقے کی ناکہ بندی کر دی گئی ہے اور تلاش جاری ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اسسٹنٹ کمشنر کے دیگر اہلخانہ کو بحفاظت زیارت پہنچا دیا گیا ہے۔
پہلا واقعہ
واضح رہے کہ 4 جون کو اسسٹنٹ کمشنر تمپ، حنیف نورزئی کو بھی اغوا کیا گیا تھا، جو تاحال بازیاب نہیں ہو سکے۔








