زیارت میں سیاحتی مقام سے اسسٹنٹ کمشنر اور بیٹے کا اغوا
اغوا کا واقعہ
کوئٹہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) زیارت سے اسسٹنٹ کمشنر افضل باقی کو ان کے بیٹے سمیت نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا۔ یہ بلوچستان میں ڈھائی ماہ کے دوران کسی اسسٹنٹ کمشنر کے اغوا کا دوسرا واقعہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں انسانی اسمگلنگ کے حالیہ واقعات کی تفتیش میں بین الاقوامی نیٹ ورکس ملوث ہونے کا انکشاف
تفصیلات
نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز کے مطابق افضل باقی اپنے اہلخانہ کے ہمراہ تفریح کے لیے زیزری گئے ہوئے تھے، جہاں مسلح اغواکار انہیں، ان کے بیٹے، گن مین اور ڈرائیور کو گاڑی سمیت اپنے ساتھ لے گئے۔ کچھ فاصلے پر جا کر اغواکاروں نے ڈرائیور اور گن مین کو چھوڑ دیا، گاڑی کو آگ لگا دی، اور اسسٹنٹ کمشنر کو بیٹے سمیت اپنے ہمراہ نامعلوم مقام کی طرف لے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: مغربی فوجی دستے یوکرین میں تعینات ہوئے تو ہدف ہوں گے۔۔۔پیوٹن کی دھمکی
حکام کی جانب سے اقدامات
ڈپٹی کمشنر ذکا اللہ درانی کے مطابق اطلاعات ہیں کہ مغویوں کو خلیفت پہاڑ کی طرف لے جایا گیا ہے۔ علاقے کی ناکہ بندی کر دی گئی ہے اور تلاش جاری ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اسسٹنٹ کمشنر کے دیگر اہلخانہ کو بحفاظت زیارت پہنچا دیا گیا ہے۔
پہلا واقعہ
واضح رہے کہ 4 جون کو اسسٹنٹ کمشنر تمپ، حنیف نورزئی کو بھی اغوا کیا گیا تھا، جو تاحال بازیاب نہیں ہو سکے۔








