پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی لاہور بدترین مالی بحران کا شکار، ملازمین کی ادویات بھی رک گئیں، چیئرمین غزالی سلیم بٹ اور پارلیمانی سیکریٹری کی موجیں جاری
مالی بحران کا شکار پی ایچ اے لاہور
لاہور (جاوید اقبال) پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی لاہور بدترین مالی بحران کا شکار ہے۔ ایک طرف اتھارٹی ساڑھے تین ارب روپے کی نادہندہ ہے، تو دوسری طرف سیاسی عہدوں پر تعینات شخصیات کو قوانین اور ایس او پیز کے برعکس ماہانہ لاکھوں روپے کی مراعات فراہم کی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ن لیگ کی اوورسیز تنظیمیں پارٹی کو مضبوط بنانے کے لئے اہم کردار ادا کر سکتی ہیں: میاں نصیر احمد
اتھارٹی کی مالی صورتحال
پی ایچ اے کے مالی حالات یہ ہیں کہ ملازمین کے لئے ادویات فراہم کرنے والی کمپنیاں ادویات دینا بند کر چکی ہیں۔ ایسی ٹھیکے دار کمپنیاں جنہوں نے اربوں روپے کا کام کیا ہے، وہ پیمنٹ کے لئے مارے مارے پھر رہی ہیں۔ موجودہ ڈائریکٹر جنرل کی کوششوں کے باوجود، اضافی مالی بوجھ کے باعث فوری طور پر مالی بحران سے نکلنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ ملازمین کی تنخواہوں کے لئے بھی فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کی وجہ سے ڈی جی راجہ منصور نے ادھار لے کر تنخواہیں دیں تاکہ ملازمین کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے نہ ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ پر سندھ میں نیا بحران، اہم تفصیلات سامنے آ گئیں
خرچوں کی حقیقت
رپورٹ کے مطابق، پی ایچ اے لاہور کو بدترین مالی بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اہم عہدوں کی اخراجات کے باعث مالی سال کے دوران آمدن کے مقررہ اہداف بھی پورے نہیں ہو سکے ہیں۔ پی ایچ اے کے لیے ماہانہ بنیاد پر فراہم کردہ ملازمین کی مفت ادویات بند کر دی گئی ہیں، جس کی وجہ سے ملازمین میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا توانائی شعبے کی اصلاحات کیلئے بڑا اقدام، بجلی کی پیداوار اور خرید کیلئے انڈپینڈنٹ مارکیٹ بنانے کی منظوری
چیئرمین اور سیاسی عہدے داروں کی مراعات
پی ایچ اے کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین غزالی سلیم بٹ کو کوئی سرکاری گاڑی یا پٹرول فراہم نہیں کیا گیا، مگر غیر قانونی طور پر انہیں مزید مراعات فراہم کی گئی ہیں۔ ان کی سرکاری گاڑی کی تمام اخراجات، بشمول ڈرائیور کی تنخواہ، پی ایچ اے کے ذمے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سربراہ پاک فضائیہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے نائب کمانڈر انچیف لیبیا لیفٹننٹ جنرل صدام خلیفہ حفتر کی ملاقات
دیگر عہدے داروں کے اخراجات
پارلیمانی سیکرٹری ہاوسنگ کو حکومت پنجاب کی طرف سے سرکاری گاڑی اور ڈرائیور دیا گیا ہے، مگر انہوں نے پی ایچ اے سے بھی ایک گاڑی حاصل کی ہوئی ہے۔ اس گاڑی کے اضافی خرچ بھی پی ایچ اے کے فنڈ سے دیے جا رہے ہیں۔ سیاسی طور پر تعینات افسران چیئرمین اور پارلیمانی سیکرٹری کی مراعات کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ دونوں ان کے خلاف شکایات کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: تاج العارفین حضرت شیخ عبدالنبی شامیؒ کا عرس آج شام چوراسی ضلع ہوشیار پور میں نہایت عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے
چیئرمین کا موقف
چیئرمین غزالی سلیم بٹ نے اس مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پی ایچ اے کو مالی بحران سے نکالنے کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور یہ نہ ہی ان کی غلطی ہے۔
نتیجہ
پی ایچ اے کے موجودہ مالی حالات میں ملازمین کو تنخواہوں اور ادویات کی ادائیگی رک گئی ہے، مگر سیاسی عہدے داروں کی مراعات میں کوئی کمی نہیں آئی۔ چیئرمین کی درخواستوں کے باوجود نئی گاڑیوں کی خریداری نہیں ہو سکتی۔








