عمر ایوب کو غیر آئینی طریقے سے نکالا گیا: بیرسٹر گوہر، پشاور ہائی کورٹ سے رجوع
پشاور میں پی ٹی آئی چیئرمین کی گفتگو
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے رہنماؤں کے خلاف کارروائیاں غیر آئینی ہیں، عمر ایوب کو غیر آئینی طریقے سے نکالا گیا۔ بیرسٹر گوہر پشاور ہائکورٹ پہنچ گئے، عمر ایوب کے کیس میں تفصیل سے آگاہ کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: نہریں نکالنے کے منصوبے کیخلاف قرارداد ایجنڈے میں شامل نہ کرنے پر پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج
الیکشن کمیشن کی خاموشی
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز سے گفتگو میں چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ہمیں کوئی نوٹس نہیں دیا، اُمید ہے کہ پشاور ہائی کورٹ ہمیں ہمارا آئینی حق دے گی، عمر ایوب پر ہمیں فخر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چنیوٹ بنیادی سہولیات اور آرٹس کونسل سے محروم ،وزیر اعلیٰ فوری احکامات جاری کریں :ڈاکٹر خالد یاسین
عوامی نمائندگی اور جدوجہد
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی نے کوئی ریفرنس نہیں بھیجا، عمر ایوب عوامی نمائندگی کر رہے تھے، آواز اُٹھائیں گے، بانی پی ٹی آئی کی رہائی تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔
یہ بھی پڑھیں: گندم اور آٹے کی نقل و حرکت کا معاملہ، پنجاب حکومت نے خیبر پختونخوا حکومت کو خط لکھ دیا
عمر ایوب کی نااہلی کا معاملہ
علاوہ ازیں الیکشن کمیشن میں عمر ایوب کی نااہلی کے لیے سپیکر کے بھجوائے گئے ریفرنس پر سماعت ہوئی جو ممبر سندھ نثار درانی کی سربراہی میں چار رکنی بنچ نے کی۔ جونیئر وکیل نے بتایا کہ کیس کی سماعت آج پشاور ہائی کورٹ میں ہو رہی ہے، اس پر ممبر کے پی نے کہا کہ اب اس ریفرنس کی سماعت کا کیا فائدہ؟ عمر ایوب تو نا اہل ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم آفس کی تزئین و آرائش کے لیے 6 کروڑ 50 لاکھ روپے رکھنے کی تجویز
سزا کی بنیاد پر نااہلی
ممبر خیبر پختونخوا نے کہا کہ سزا یافتہ ہونے پر عمر ایوب نا اہل ہو چکے، ہم نے 90 روز میں ریفرنس پر فیصلہ کرنا ہے۔ بعدازاں الیکشن کمیشن نے عمر ایوب نااہلی ریفرنس پر سماعت 20 اگست تک ملتوی کردی۔
یہ بھی پڑھیں: سرفراز احمد کو پاکستان ٹیسٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ بنانے کا فیصلہ
عدالت میں اثاثہ جات کا کیس
علاوہ ازیں پشاور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب کی اثاثہ جات سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس ڈاکٹر خورشید اقبال نے کی۔ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ عمر ایوب کو الیکشن کمیشن نے اثاثہ جات سے متعلق نوٹس جاری کیا اور کارروائی شروع کی، عمر ایوب کو عدالت نے سزا سنائی، سزا کے بعد شاید ان کو ڈی سیٹ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے ساتھ کرایوں میں بھی کمی کا اعلان
عدالت کے سوالات اور الیکشن کمیشن کی رائے
جسٹس سید ارشد علی نے کہا کہ اب تو یہ ممبر قومی اسمبلی نہیں رہے نا، اب یہ اسمبلی ممبر نہیں رہے تو الیکشن کمیشن کی کیا رائے ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے بتایا کہ الیکشن کمیشن میں اس حوالے سے آج اجلاس ہے، اگر انہوں نے کوئی چیز چھپائی ہے تو پھر کریمنل کیس بنتا ہے۔
سماعت کی تاریخ کا اعلان
جسٹس سید ارشد علی نے کہا کہ جب یہ ممبر نہیں رہے تو اب کیا کارروائی کریں گے، اس پر وکیل الیکشن کمیشن نے استدعا کی کہ ہمیں ٹائم دیں، آج وہاں پر اس حوالے سے اجلاس ہے، اس میں کوئی فیصلہ ہوگا۔ بعدازاں عدالت نے سماعت 20 اگست تک ملتوی کردی۔








