باجوڑ میں قبائلی عمائدین اور فتنۃ الخوارج کا جرگہ ناکام؛ دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن جاری
باجوڑ میں جرگہ ناکام
لوئر دیر (ڈیلی پاکستان آن لائن) باجوڑ میں قبائلی عمائدین اور فتنۃ الخوارج کا جرگہ ناکام ہوگیا، جب کہ قیام امن کے لیے فوجی آپریشن جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان
تفصیلات
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ باجوڑ میں فتنۃ الخوارج اور قبائل عمائدین کے درمیان مصالحت کے لیے بلایا گیا جرگہ ناکام ہوگیا جب کہ علاقے میں مکمل کرفیو بھی نافذ ہے اور تمام چھوٹے بڑے کاروباری مراکز بند ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جنوبی وزیرستان میں مبینہ ڈرون حملہ، 23 افراد زخمی، 4 کی حالت تشویشناک
فوجی کارروائی
ذرائع کے مطابق باجوڑ میں فوجی آپریشن جاری ہے اور گن شپ ہیلی کاپٹر فضائی نگرانی کے ساتھ ساتھ دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران پر بمباری سے امن نہیں آئے گا” روس کھل کر میدان میں آگیا
قبائلی اعلان
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے لوئر دیر میں پاک افغان بارڈر سے منسلک قبائل نے علاقے میں موجود خارجی دہشت گردوں کے خلاف اسلحہ اٹھانے، دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کو علاقہ بدر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ لوئر دیر میں پاک افغان بارڈر سے منسلک مسکینی درہ کے قبائل نے علاقے میں دہشت گردوں کو اپنے علاقوں میں نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بجلی سستی مگر گیس کی قیمت میں کتنا اضافہ ہوگیا؟ تازہ خبر
مزید اقدامات
قبائلی جرگے نے اعلان کیا ہے کہ اگر دہشت گردوں نے کوئی تخریب کاری کرنے کی کوشش کی تو ان کی جائیدادوں کو ضبط کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خاندانوں کو علاقہ بدر کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: عثمان ہادی کا قتل انقلاب کا سبب بنے گا اور بھارت ٹکڑے ہوکر بکھرے گا” برطانیہ میں سکھ کمیونٹی کا بھارت کے خلاف مظاہرہ
دہشتگردوں کے خلاف پہرہ
جرگے نے دہشتگردوں کے خلاف اسلحہ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے اور دہشت گردوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے رات کو پہرہ دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: میرا شوہر گھر کے کام کرواتا ہے اور انسٹاگرام استعمال نہیں کرنے دیتا، خاتون نے شکایت کر دی۔
سیکورٹی حالت
قبل ازیں سیکورٹی ذرائع نے کہا تھا کہ خوارج باجوڑ میں آبادی کے درمیان رہ کر دہشتگردانہ اور مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں، خیبر پختونخوا کی حکومت بشمول وزیر اعلیٰ اور سکیورٹی حکام نے وہاں کے قبائل کے سامنے 3 نکات رکھے تھے، جن میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ ان خارجیوں کو جن کی زیادہ تعداد افغانوں پر مشتمل ہے، کو باہر نکالیں۔
حکومتی مؤقف
سکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ خوارج اور ان کے سہولت کاروں کے ساتھ حکومتی سطح پر کوئی بات چیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، جب تک کہ وہ ریاست کے سامنے مکمل طور پر سر تسلیم خم نہ کر دیں۔








