بھارت میں امریکی برانڈز کی بائیکاٹ مہم زور پکڑ گئی
امریکہ کی جانب سے بھارت پر 50 فیصد ٹیرف
نئی دہلی(ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بھارت پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد بھارت میں امریکی مصنوعات کی بائیکاٹ مہم زور پکڑ گئی۔
یہ بھی پڑھیں: حزب اللہ نے اہم اعلان کر دیا
تجارتی تعلقات پر دباؤ
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر کے بھارت پر 50 فیصد ٹیرف اور بھارت میں امریکی مصنوعات کی بائیکاٹ مہم کے فیصلے نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو سخت دباؤ میں ڈال دیا۔ سماجی و کاروباری حلقوں میں “میک ان انڈیا” اور مقامی مصنوعات کو ترجیح دینے کا نعرہ دوبارہ گونجنے لگا۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: “میرا شوہر مجھے غیر مردوں سے دوستی کرنے کا کہتا ہے” خاتون نے معاشرے کے انتہائی شرمناک پہلو سے پردہ اٹھا دیا۔
بھارتی مارکیٹ کی اہمیت
بھارت دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والا ملک اور امریکی برانڈز کے لیے ایک اہم منڈی ہے۔ جہاں مڈل کلاس کے بڑھتے ہوئے طبقے کو عالمی معیار کے برانڈز خاص کشش دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی بیورو کریسی اہم تبدیلیاں
مقبول امریکی برانڈز
میٹا کی واٹس ایپ کے سب سے زیادہ صارفین بھارت میں ہیں۔ اور ڈومینوز پیزا کے سب سے زیادہ آؤٹ لیٹس بھی بھارت میں موجود ہیں۔ جبکہ پیپسی اور کوکا کولا بھی بھارت میں مشروبات کی مارکیٹ میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کے قریبی ساتھیوں کا کردار مشکوک ہے، بشریٰ بی بی کی بہن کا بیان
مقامی کاروباری تحریک
بھارت میں ایپل اسٹورز کے افتتاح پر لمبی قطاریں لگنا عام بات ہے۔ اور اسٹاربکس کی خصوصی ڈسکاؤنٹ آفرز پر کافی شاپس بھر جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ پہلگام، مقبوضہ کشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک نے بھارتی وزیر اعظم کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا ڈالا
سوشل میڈیا اور بائیکاٹ مہم
ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف فیصلے کے بعد اگرچہ ابھی امریکی مصنوعات کی فروخت میں کسی بڑی کمی کی اطلاع نہیں، مگر سوشل میڈیا پر اور مختلف شہروں میں “بائیکاٹ امریکن برانڈز” کے پیغامات تیزی سے پھیل رہے ہیں۔
مقامی برانڈز کی حمایت
مودی کے حامی گروپ اور کاروباری رہنما صارفین کو مقامی برانڈز کی حمایت کرنے پر زور دے رہے ہیں。








