سزاؤں کے بعد نااہلی کے نوٹیفکیشن کیخلاف درخواست پر الیکشن کمیشن سمیت دیگر کو نوٹس
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے سزاؤں کے بعد نااہلی کے جاری نوٹیفکیشن کے خلاف درخواست پر الیکشن کمیشن سمیت دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ میں 24 کروڑ روپے مالیت کا اسمگل شدہ سامان ضبط کر لیا گیا
کیس کی سماعت
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس خالد اسحاق نے احمد خان بھچر، احمد چٹھہ اور جنید افضل ساہی کی سزاؤں کے بعد نااہلی کے جاری نوٹیفکیشن کے خلاف اور ضمنی انتخابات روکنے کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزاروں کی جانب سے بیرسٹر شہزاد شوکت پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: 2019 میں بھارتی پائلٹ کو چائے پلائی، اب ایسا کچھ ہوا تو بھرپور جواب دینگے: وزیر اطلاعات
درخواست گزار کا موقف
بیرسٹر شہزاد شوکت نے موقف اختیار کیا کہ اے ٹی سی نے 9 مئی کے مقدموں میں سزائیں سنائی، الیکشن کمیشن نے سپیکر کا ریفرنس آئے بغیر ہی درخواست گزاروں کو نااہل قرار دے دیا جبکہ سپیکر خود کسی ممبر کو نااہل نہیں کر سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں اربوں ڈالروں کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا ممکنہ موقع
حکومتی وکیل کا بیان
دوران سماعت وفاقی حکومت کے وکیل نے بتایا کہ ابھی ان حلقوں میں ضمنی الیکشن نہیں ہو رہا، ہمیں تیاری کیلئے آئندہ ہفتے تک کا وقت دے دیں، عدالت نے استفسار کیا کہ دو حلقوں میں شیڈول آچکا ہے اور کاغذات نامزدگی بھی جمع ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہم نے گھاس کھائی ہے ۔۔۔
الیکشن کمیشن کی وضاحت
عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا ان کے فیصلوں میں لکھا گیا ہے کہ یہ لوگ اخلاقی بدیانت ہیں، نااہل کرتے وقت الیکشن کمیشن دو لائنیں ہی لکھ دیتا کہ یہ اخلاقی بدیانت ہیں لہٰذا ناہل کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 23 ستمبر کو ماہ ربیع الثانی کا چاند نظر آنے کا امکان
عدالت کی ریمارکس
جسٹس خالد اسحاق نے ریمارکس دیئے کہ اگر ہم معاملہ الیکشن کمیشن کو بھیج دیں اور انہیں کہہ دیں کہ وہ سب کے تحفظات سن کر فیصلہ کر دیں، ہم الیکشن کمیشن کو پابند کر دیں گے کہ اور ایک وقت مقرر کر دیں گے، دوسرا حل یہ ہے میں نوٹس کر دیتا ہوں منگل کو دستیاب بنچ سن لے گا۔
یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کی زیرِ صدارت پاکستان مسلم لیگ (ن) کا خصوصی اجلاس، وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی شرکت، اہم فیصلے
وکیل کی درخواست
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ آپ الیکشن کمیشن کا نااہلی کا آرڈر کالعدم قرار دے کر ہمیں الیکشن کمیشن بھیج دیں۔
سماعت کی تاریخ
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ فریقین کو سنے بغیر کیسے فیصلہ کر سکتے ہیں، جس پر شہزاد شوکت نے ہدایت کیلئے وقت مانگا، بعد ازاں درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کی کہ آپ اس کیس میں 18 اگست کیلئے نوٹس جاری کر دیں، جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ چلیں میں نوٹس جاری کر دیتا ہوں اور جو دستیاب بنچ ہوگا وہ سن لے گا۔ بعدازاں عدالت نے مزید سماعت 18 اگست تک ملتوی کردی.








