سپریم کورٹ نے نیب کیس میں سزا بھگتنے والے ملزم کو الزامات سے بری قرار دے دیا
اسلام آباد میں اہم فیصلہ
سپریم کورٹ نے نیب کیس میں سزا بھگتنے والے ملزم سردار حسین کو الزامات سے بری قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: فوج کی ہر ممکن مدد کریں گے، وزیرخزانہ کا بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کیلئے بھی ریلیف کا اشارہ
تفصیلی فیصلہ
عدالت عظمیٰ نے 14 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے، جس میں کہا گیا کہ سزا کاٹنے والے ملزم سردار حسین کے خلاف کرپشن کا کیس نہیں بنتا۔ بوگس چیک بنانے کا اعتراف کیشئر کرچکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کمبخت چیز ہی ایسی ہے کہ بزرگ بھی قربت میں رہنا چاہتے ہیں، دیکھنے والا عش عش کر اٹھتا ہے، تیاری میں چھوٹی سی چھوٹی تفصیل کا خیال رکھا جاتا ہے۔
ثبوت کی کمی
دوران سماعت ملزم سردار حسین کے خلاف مالی فوائد کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ ملزم سردار حسین کے خاندان میں بھی کسی پر مالی فوائد لینے کے شواہد نہیں ہیں۔ عدالت نے ملزم کو الزامات سے بری کرکے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی سزا کالعدم قرار دے دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہمارے لیے سب سے پہلے پاکستان ہے، اگر عمران خان کے بیٹے ملک کے خلاف بات کریں گے تو ہم سپورٹ نہیں کریں گے، بیرسٹر گوہر
اپیل کا پس منظر
روزنامہ جنگ کے مطابق سردار حسین نے 2018ء سے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی تھی۔ بریت کا فیصلہ جسٹس اطہر من اللّٰہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے جاری کیا۔
سزا کا ذکر
یاد رہے کہ سابق ڈپٹی سیکریٹری سردار حسین کو کرپشن الزامات پر 2015ء میں 3 سال قید اور 45 لاکھ جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی، جس کے خلاف میرٹ پر بریت کی اپیل کی گئی تھی۔








