سیلاب متاثرہ علاقوں میں ہیضہ، ڈینگی، ملیریا، سانس اور جلد کی بیماریاں تیزی سے پھیلنے لگیں، محکمہ صحت کی رپورٹ جاری
سیلاب کے اثرات
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) خیبرپختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض پھوٹ پڑے ہیں۔ محکمہ صحت نے رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق سیلاب متاثرہ اضلاع میں ایک لاکھ 64 ہزار مریضوں کا اب تک علاج معالجہ کیا جاچکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سال 2025 کے دوران 38 ہزار سے زائد پاکستانیوں کو خلیجی ممالک سے ڈی پورٹ کیا گیا، تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش
وبائی امراض کی صورتحال
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہیضہ، ڈینگی، ملیریا، سانس اور جلد کی بیماریاں بھی تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ بونیر سمیت 11 اضلاع میں ہیضہ کے 2 ہزار 506 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں 116 خونی ہیضے والے مریض بھی شامل ہیں جبکہ ایک ہزار 112 مریضوں کا علاج کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جوڈیشل ورک سے روکنے کا معاملہ، جسٹس طارق جہانگیری نے 26 ستمبر تک اپیل فکس کرنے کی درخواست کردی۔
ہیضہ کے کیسز کی تفصیلات
دستاویز کے مطابق دیرلوئر میں ہیضہ کے سب سے زیادہ 823، سوات میں 591، بونیر 319 اور باجوڑ میں ہیضہ کے 262 کیسز سامنے آئے۔ دیگر اضلاع میں دیراپر میں 226، بٹگرام 154 اور شانگلہ میں ہیضہ کے 168، مانسہرہ میں 39، صوابی 18 اور تورغر میں ہیضہ کے 13 مریضوں کا علاج کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ؛پی ٹی آئی نے الیکشن ایکٹ ترمیم کیخلاف درخواست واپس لے لی
دیگر بیماریوں کی رپورٹ
دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ شانگلہ میں ملیریا کے 80، دیرلوئر 16، سوات 14، تورغر 11 اور دیراپر میں جبکہ 2 صوابی میں ڈینگی کے 8، دیرلوئر 6 اور باجوڑ میں ایک کیس سامنے آیا۔
یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں کیمیکل ہتھیاروں سے لوگوں کو شہید کیا جا رہا ہے: مشعال ملک کا تقریب سے خطاب
جلدی امراض کی صورتحال
رپورٹ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں خارش، دانوں سمیت جلدی امراض کے مریضوں میں اضافہ ہوا ہے۔ تورغر میں 172، دیرلوئر میں 125، بونیر میں 117، شانگلہ میں 128، بٹگرام میں 83 اور باجوڑ میں جلدی امراض کے 4 اور دیرلوئر میں ایک مریض رپورٹ ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: پی پی 167 ضمنی انتخاب کا بائیکاٹ پالیسی کے تحت آتا ہے، پی ٹی آئی نہ حصہ لے رہی اور نہ ہی کسی امیدوار کی حمایت کر رہی ہے، اعلامیہ جاری
سانس کی بیماریوں کا پھیلاؤ
دستاویز کے مطابق سیلاب زدہ علاقوں میں نزلہ، زکام اور سانس کی بیماریاں بھی پھیلنے لگیں۔ متاثرہ 9 اضلاع میں مجموعی طور پر 2 ہزار 245 مریض رپورٹ ہوئے اور ایک ہزار 413 مریضوں کو علاج کی سہولت فراہم کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کے لئے وزیر دفاع خواجہ آصف کا ایکس پر خصوصی پیغام
دیگر خطرات
دستاویز کے مطابق دیرلوئر میں 736، سوات 703، شانگلہ 359، بٹگرام 217 اور صوابی میں 103 کیسز سامنے آئے۔ متاثرہ علاقوں میں سانپ اور کتوں کے کاٹنے کے 35 سے زائد واقعات پیش آئے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت نے گریڈ 19 اور 18 کے 7 افسران کے تقرر و تبادلے کردیئے
صحت کی ٹیمیں اور ویکسین کی دستیابی
اس حوالے سے سیکرٹری صحت شاہد اللہ نے جیو نیوز کو بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں محکمہ صحت کی ٹیمیں اور موبائل اسپتال موجود ہیں اور اب تک ایک لاکھ 64 ہزار سے زیادہ مریضوں کو طبی امداد فراہم کی جاچکی ہے۔ جبکہ سانپ اور کتوں سے کاٹنے کی ویکسینز متاثرہ علاقوں میں بھجوادی گئی ہیں۔
نفسیاتی صحت کا خیال
ان کا کہنا تھا کہ سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں نفسیاتی امراض میں بھی اضافہ ہوا ہے اور ماہرین نفسیات پر مشتمل ٹیمیں بھی سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں موجود ہیں۔








