پنجاب، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر میں طوفانی بارش، 10 افراد جاں بحق، 60 زخمی
طوفانی بارشوں کا اثر
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پنجاب، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں طوفانی بارش ہوئی، نشیبی علاقے زیر آب آ گئے، بجلی کا نظام درہم برہم ہو گیا، مکانات منہدم ہونے سے 10 افراد جاں بحق اور 60 زخمی ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: ماہرہ خان نے خلیل الرحمان قمر سے اختلاف پر پہلی مرتبہ خاموشی توڑ دی
ڈیرہ اسماعیل خان کی صورتحال
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں تیز ہواؤں اور طوفانی بارش نے تباہی مچائی، متعدد مکانات کی چھتیں گر گئیں۔ بجلی کے تار اور کھمبے گرنے سے شہر بھر میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی، سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں سے درخت جڑوں سے اکھڑ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: نصیب لال اور نور جہاں کے گانوں پر تین مقدمات، یاسر شامی نے ایف آئی آرز کا پوسٹ مارٹم کردیا، ویڈیو
مردان میں نقصانات
مردان میں بھی بارش کے دوران کمرے کی چھت گر گئی جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ 2 افراد زخمی ہوگئے۔ ہری پور اور گرد و نواح میں بھی موسلا دھار بارش ہوئی، ڈیم کے سپیل ویز کھول دیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا؟
آزاد کشمیر کی تباہی
آزاد کشمیر میں مٹی کے تودے گرنے سے 4 گھر منہدم ہو گئے جبکہ ایک مسجد شہید ہو گئی۔ پنجاب کے مختلف شہروں میں وقفے وقفے سے بارش ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایکس میں مثبت رجحان، 100 انڈیکس ایک لاکھ 90 ہزار سے تجاوز کرگیا
لاہور کی بارش کی صورتحال
لاہور کے مختلف علاقوں گلبرگ، جیل روڈ، ٹیمپل روڈ، لکشمی چوک، گڑھی شاہو، شاد باغ، مغلپورہ، جلو اور جی او آر میں تیز بارش ہونے سے پانی گھروں میں داخل ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: 12 سالہ لڑکی پر 80 برس کے بزرگ کے قتل کے الزام میں مقدمہ درج
دیگر علاقوں میں بارشیں
حافظ آباد، گوجرانوالہ، گجرات، جہلم، چنیوٹ میں بادل برس پڑے، چشتیاں، سانگلہ ہل، چناب نگر میں موسلا دھار بارش سے شہری پریشان ہو گئے۔ چشتیاں میں تیز آندھی اور بارش سے کھمبے گر گئے، متعدد فیڈرز ٹرپ کر گئے، بجلی اور پانی کی فراہمی تعطل کا شکار ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کسی اور کیس میں گرفتار نہیں تو جیل سے رہا کردیا جائے،لانگ مارچ توڑپھوڑ کیس میں بریت کا تحریری فیصلہ جاری
اسلام آباد اور راولپنڈی میں بارش
اسلام آباد اور راولپنڈی میں موسلا دھار بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آ گئی۔ بہارہ کہو اٹھال چوک پانی میں ڈوبا رہا، بارش کا پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہو گیا، کئی گاڑیاں پھنس گئیں۔ راول ڈیم میں پانی کی سطح بلند ہونے پر سپیل ویز کھول دیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر جامعہ کراچی کا صبح کی کلاسز آن لائن کرانے کا فیصلہ
لمبی مدت کا خدشہ
دریائے گلگت کے بہاؤ میں اضافے کے خدشہ کے پیش نظر دریا سے ملحقہ تمام ہوٹلز کو بند کر دیا گیا جبکہ دریا کنارے موجود تعلیمی ادارے پیر کو بند رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: مئی تنازعے کے تقریباً ساڑھے 5 مہینے بعد رافیل پائلٹ شیوانگی سنگھ منظر عام پر آگئیں۔
مری میں مشکلات
مری میں وقفے وقفے سے موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ مختلف مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ اور ندی نالوں میں طغیانی نے خطرے کی فضا پیدا کر دی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق کوہالہ روڈ اور پتھریاٹہ میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سے شکست، بھارتی چیفس آف ڈیفنس سٹاف عوام کو کرکٹ کی مثالوں سے تسلیاں دینے لگے
موسمی الرٹ
ملک بھر میں تیس اگست تک شدید بارشوں کا الرٹ جاری کر دیا گیا۔ خیبرپختونخوا میں بارشوں کے باعث فلیش فلڈ اور اربن فلڈنگ کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ چترال، دیر، سوات، کوہستان، مانسہرہ اور ایبٹ آباد میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں نیا ریکارڈ قائم، 100 انڈیکس ایک لاکھ 62 ہزار پوائنٹس کی حد بھی عبور کر گیا
دریائے ستلج کی آبادی پر اثرات
دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب آنے سے درجنوں دیہات زیر آب آ گئے ہیں۔ ہیڈ گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کی سطح 21 فٹ سے بلند ہوگئی، قصور میں ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی زیر آب آ گئی۔
قصور کی صورتحال
قصور میں 30 سے زائد دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ ہیڈ سلیمانکی پر نچلے درجے کا سیلاب اور گڈو بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔








