یوکرین کا روس کے نیوکلیئر پلانٹ پر حملہ
ماسکو میں یوکرین کے ڈرون حملے کا واقعہ
یوکرین کے ڈرون حملے کے باعث روس کے کرسک نیوکلیئر پاور پلانٹ میں آگ بھڑک اٹھی، جسے بعد ازاں فائر فائٹرز نے بجھا دیا۔ حملے میں ٹرانسفارمر کو نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں ری ایکٹر نمبر 3 کی بجلی کی پیداوار 50 فیصد کم کر دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: سیالکوٹ سے بسنت منانے آیا نوجوان چھت سے گر کر جاں بحق
فضائی دفاع کا جواب
پلانٹ کی پریس سروس کے مطابق روسی فضائی دفاع نے مقامی وقت کے مطابق رات 12 بج کر 26 منٹ پر ڈرون کو مار گرایا، تاہم اس کے گرنے کے بعد دھماکا ہوا جس سے آگ لگ گئی۔ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (منگل) کا دن کیسا رہے گا ؟
نیوکلیئر پلانٹ کی حالت
انادولو ایجنسی کے مطابق بیان میں کہا گیا ہے کہ آگ سے ایک معاون ٹرانسفارمر کو نقصان پہنچا، جس کے باعث ری ایکٹر نمبر 3 نصف گنجائش پر کام کر رہا ہے۔ ری ایکٹر نمبر 4 پہلے سے ہی شیڈول مرمت پر بند ہے جبکہ ری ایکٹر نمبر 1 اور 2 بجلی پیدا کیے بغیر آپریشنل حالت میں ہیں۔ پلانٹ اور ارد گرد کے علاقوں میں تابکاری کی سطح معمول کے مطابق ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان تحریک انصاف نے وفاق کی فاٹا کے لیے بنائی گئی کمیٹی مسترد کر دی
بین الاقوامی تناظر
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر کہا کہ وہ اس واقعے سے آگاہ ہے، تاہم اس کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکتی۔
یہ بھی پڑھیں: سابق ٹینس اسٹار راجر فیڈرر دنیا کے 7ارب پتی پلیئرز کی صف میں شامل، مجموعی دولت کا تخمینہ 1.1 ارب ڈالر
روس کی وزارت دفاع کا دعویٰ
روس کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے رات گئے 13 مختلف علاقوں سمیت کرسک اور 2014 میں ضم کیے گئے کریمیا میں مجموعی طور پر 95 یوکرینی ڈرون مار گرائے۔
یہ بھی پڑھیں: علمی اداروں کی بندش یا ضم کرنے کی کوئی تجویز حکومت کے زیر غور نہیں : وزیراعظم کی سینیٹر عرفان صدیقی سے ملاقات میں گفتگو
خطے کی جوہری سلامتی کی نگرانی
کرسک کے گورنر الیگزینڈر کھنشٹین نے وارننگ دی کہ اس نوعیت کے حملے "جوہری سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور تمام بین الاقوامی کنونشنز کی خلاف ورزی ہیں۔"
یہ بھی پڑھیں: وی پی این پر حافظ طاہر محمود اشرفی کا مؤقف بھی آ گیا
یوکرینی حکام کی خاموشی
یوکرینی حکام کی جانب سے تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔
کرسک نیوکلیئر پاور پلانٹ کی اہمیت
واضح رہے کہ روس کا کرسک نیوکلیئر پاور پلانٹ ملک کے سب سے بڑے پاور سٹیشنز میں سے ایک ہے۔ یہ وسطی وفاقی ضلع کے 19 علاقوں کو بجلی فراہم کرتا ہے۔ یہ پلانٹ شہر کرسک سے تقریباً 40 کلومیٹر مغرب اور یوکرین کی سرحد سے تقریباً 93 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے。








