بھارت کے پانی چھوڑنے پر ستلج کے حفاظتی بند ٹوٹ گئے، بستیاں زیر آب، لوگ بے گھر

دریائے ستلج میں سیلاب کی تباہی

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے بعد دریائے ستلج کے کئی مقامات پر حفاظتی بند ٹوٹ گئے جس سے کئی بستیاں زیر آب آ گئی ہیں اور ہزاروں لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کے بچوں کی پاکستان آمد کا معاملہ، رضوان رضی نے دلچسپ قصہ شیئر کردیا

بستیوں کی حالت

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پاکپتن کی بستی چکرآلوکا اور کنڈ نین سنگھ کے حفاظتی بند بھی ٹوٹ گئے، سیلابی پانی قریبی آبادیوں میں داخل ہو گیا، علاقہ مکین اپنی مدد آپ کے تحت بند باندھنے میں مصروف ہیں۔

ستلج سے متاثرہ اضلاع میں قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، بہاولنگر اور وہاڑی شامل ہیں، ریسکیو ٹیموں کے مطابق دیہاتیوں اور ان کے مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر جرمانے بڑھانے کی تجویز منظور

پنجاب ڈی پی ایم اے کی کارروائیاں

پنجاب کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ترجمان کے مطابق دریائے ستلج نے سرحد کے قریب علاقوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے، انسانی آبادی اور مکانات بھی متاثر ہوئے ہیں، لوگ اپنے مال مویشیوں کے ساتھ محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ کا جنوبی پنجاب کے لیے خوشیوں بھرا پیغام

زرعی نقصانات

بہاولنگر ضلع کی تحصیل منچن آباد کے علاقوں وزیرا گدوکا، میکلوڈ گنج میں سیلابی ریلے نے بڑے پیمانے پر کھڑی فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے، خاص طور پر دھان، تل اور چارہ جات کی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیرِ صدارت اجلاس، لاہور سے اسلام آباد فلائٹ روٹ پر اتفاق، ایئر پنجاب کو جلد فنکشنل کرنے کا حکم

مقامی طور پر متاثرہ علاقے

بابا فرید پل اور ملحقہ علاقوں میں پانی کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے، موضع اعظم چھینہ، موضع بھونڈی سمیت متعدد دیہات میں سیلاب نے تباہی مچائی ہے، عارضی طور پر بنائے گئے چھوٹے بڑے حفاظتی بند ٹوٹ گئے، متاثرہ علاقوں کا منچن آباد شہر سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سولر پینل بنانے والی کمپنی Inverex نے پاکستان میں اپنی پہلی گاڑی لانچ کر دی

نالہ ڈیک کی صورتحال

ظفر وال میں لہڑی کے مقام سے نالہ ڈیک کا بند ٹوٹنے سے 500 فٹ کا شگاف پڑ گیا، بند ٹوٹنے سے سڑک کے کٹاؤ کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے، محکمہ آبپاشی کے مطابق درجنوں دیہات کے لپیٹ میں آنے کا خدشہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جب رنگ باز موڈ میں ہوتے ہیں تو فیک AI کی ویڈیو شیئر کر دیتے ہیں اور معذرت خواہ بھی نہیں ہوتے،مزمل اسلم

دیگر متاثرہ دیہات

ستلج کا سیلابی پانی احمد پور شرقیہ کے مزید کئی دیہات میں داخل ہو گیا، شمس آباد، بیلی، بقا پور، بستی بھٹہ، بستی جھلن، بستی گھلو سیلابی پانی کی لپیٹ میں آ گئے، گھروں، سرکاری سکولوں میں پانی داخل ہو گیا، زرعی اراضی زیر آب آ گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی وفد کا آج سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے ملاقات کا فیصلہ

ریلیف کیمپ کی کارروائیاں

انتظامیہ کے مطابق فلڈ ریلیف کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں، علاقہ مکین مال مویشی سمیت محفوظ مقامات پر منتقل ہو رہے ہیں۔ ریسکیو حکام کے مطابق ریسکیو ٹیمیں لوگوں کو کشتیوں کے ذریعے نکال رہی ہیں، گزشتہ 24 گھنٹوں میں 19 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مسلم لیگ (ن) نے وہ کر دکھایا جو پہلے کبھی نہیں ہوا: وزیر اعلیٰ مریم نواز کی ضمنی انتخابات میں اسامہ عبدالکریم کی بلامقابلہ کامیابی پر مبارکباد

مقامی افراد کی مشکلات

پی ڈی ایم اے کی جانب سے دریا کے کنارے رہنے والے لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ فوراً محفوظ علاقوں میں منتقل ہو جائیں، تاہم کچھ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ان کے پاس جانے کے لیے کوئی اور جگہ نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جنوبی وزیرستان کی تحصیل وانا میں دھماکا، 6 افراد جاں بحق، 16 زخمی

آنے والے خطرات

ڈیزاسٹر اتھارٹی کے مطابق دریائے چناب میں آئندہ 24 گھنٹوں میں درمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے کیونکہ دریائے توی سے پانی کا بڑا ریلا دریائے چناب میں داخل ہونے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان سٹاک ایکسچینج میں 100 انڈیکس ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر

دیگر دریاؤں کی صورتحال

دریائے توی سے آنے والا سیلابی ریلا گجرات، منڈی بہاؤ الدین، چنیوٹ اور جھنگ سے ملحقہ علاقوں کو متاثر کر سکتا ہے، ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 1 لاکھ 27 ہزار اور اخراج 1 لاکھ 9 ہزار کیوسک ہے۔ چناب میں خانکی پر پانی کی آمد 1 لاکھ 28 ہزار اور اخراج 1 لاکھ 21 ہزار ہے، ڈیرہ غازی خان کی رودکوہیوں میں بھی فلیش فلڈنگ کا خدشہ ہے۔

دریائے سندھ اور راوی کی صورتحال

دریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے، دریائے راوی میں جسڑ پر 39 ہزار شاہدرہ 18 ہزار بلوکی 41 ہزار اور ہیڈ سدھنائی میں پانی کا بہاؤ 33 ہزار کیوسک ہے۔ نالہ ایک، بئیں اور بسنتر میں نچلے درجے کی سیلابی صورتحال ہے.

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...