ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس میں اہم پیشرفت، چالان سکروٹنی کے بعد عدالت میں جمع
ٹک ٹاکر ثناء یوسف کا قتل
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) نوجوان ٹک ٹاکر ثناء یوسف کے قتل کا معاملہ سنگین شکل اختیار کر گیا ہے۔ پراسکیوشن نے مقدمے کے چالان کی اسکروٹنی مکمل ہونے کے بعد یہ چالان عدالت میں پیش کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انگریز گاؤں کو ”گھسیٹ“کر اسٹیشن والی جگہ پر لے آئے اور 1894ء میں ایک ریلوے اسٹیشن بنا کر اس کا نام روجھاں والی رکھ دیا
سماعت کی تفصیلات
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں 16 سالہ ٹک ٹاکر ثناء یوسف کے قتل کیس پر سماعت ہوئی۔ اس میں پراسکیوشن نے مقدمے میں 31 گواہان کو شامل کیا ہے، جن میں ثناء یوسف کی فیملی، ڈاکٹر، اور پولیس اہلکار شامل ہیں۔ پراسکیوشن کی سکروٹنی ٹیم نے چالان کی جانچ کے لیے ایک ماہ سے زائد وقت لیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں 7 اور 8 ستمبر کی درمیانی شب چاند گرہن کا آغاز کس وقت ہوگا؟
مجرم کی شناخت
پولیس چالان میں عمر حیات کو ثناء یوسف کا قاتل قرار دیا گیا ہے۔ معلومات کے مطابق، ملزم عمر حیات نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا انفلوئنسر اسد اسحاق کے گھر چوری کی بڑی واردات
عدالت کے نوٹس
عدالت نے یہ بھی وضاحت کی کہ موسم گرما کی تعطیلات کے بعد کیس کا باقاعدہ ٹرائل شروع ہوگا۔
قتل کی وجوہات
یاد رہے کہ عمر حیات نے ٹک ٹاکر ثناء یوسف کو دوستی کرنے سے انکار کرنے پر ان کے گھر میں گھس کر انہیں گولیاں مار کر قتل کردیا تھا۔








