ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس میں اہم پیشرفت، چالان سکروٹنی کے بعد عدالت میں جمع
ٹک ٹاکر ثناء یوسف کا قتل
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) نوجوان ٹک ٹاکر ثناء یوسف کے قتل کا معاملہ سنگین شکل اختیار کر گیا ہے۔ پراسکیوشن نے مقدمے کے چالان کی اسکروٹنی مکمل ہونے کے بعد یہ چالان عدالت میں پیش کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران سے جنگ کب تک جاری رہ سکتی ہے؟ اسرائیلی دفاعی اداروں نے بتادیا
سماعت کی تفصیلات
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں 16 سالہ ٹک ٹاکر ثناء یوسف کے قتل کیس پر سماعت ہوئی۔ اس میں پراسکیوشن نے مقدمے میں 31 گواہان کو شامل کیا ہے، جن میں ثناء یوسف کی فیملی، ڈاکٹر، اور پولیس اہلکار شامل ہیں۔ پراسکیوشن کی سکروٹنی ٹیم نے چالان کی جانچ کے لیے ایک ماہ سے زائد وقت لیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ اور جرمنی کی طرح فوری طور پر قانون سازی کر کے بیرون ملک جائیدادیں بنانے والوں کی دولت واپس پاکستان لانے کا مطالبہ
مجرم کی شناخت
پولیس چالان میں عمر حیات کو ثناء یوسف کا قاتل قرار دیا گیا ہے۔ معلومات کے مطابق، ملزم عمر حیات نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برسوں سے زیرالتوا مقدمات ٹارگٹ ہیں، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ
عدالت کے نوٹس
عدالت نے یہ بھی وضاحت کی کہ موسم گرما کی تعطیلات کے بعد کیس کا باقاعدہ ٹرائل شروع ہوگا۔
قتل کی وجوہات
یاد رہے کہ عمر حیات نے ٹک ٹاکر ثناء یوسف کو دوستی کرنے سے انکار کرنے پر ان کے گھر میں گھس کر انہیں گولیاں مار کر قتل کردیا تھا۔








