ارشاد شریف قتل کیس: جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ محفوظ

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے صحافی ارشد شریف کے قتل کیس کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن کے 2 اجلاس آج طلب

سماعت کا پس منظر

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، جسٹس انعام امین منہاس نے صحافی حامد میر اور ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ صدیق کی دائر کردہ درخواستوں پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران حامد میر کے وکیل بیرسٹر شعیب رزاق نے دلائل دیے۔

یہ بھی پڑھیں: آئینی ترمیم کی منظوری ملکی تاریخ میں سنگ میل ہے: گورنر پنجاب

وکیل شعیب رزاق کے دلائل

وکیل شعیب رزاق نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ برس 27 اگست کو جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ ہوا تھا، مگر ابھی تک کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ارشد شریف نے پاکستان کیوں چھوڑا اور ان کا قتل کن حالات میں ہوا؟

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی رہنماؤں کی مقدمات تفصیلات کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

ایف آئی آرز اور واپسی کا پیغام

انہیں نے بیان کیا کہ ارشد شریف کے خلاف 16 ایف آئی آرز درج ہوئیں، اور انہوں نے اپنے دوستوں کو پاکستان واپسی کا پیغام بھیجا، جس کے بعد انہیں قتل کر دیا گیا۔ ہم صرف جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ سچ سامنے آ سکے اور کمیشن کو کینیا بھیجا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں سموگ کا روگ برقرار، شہر لاہور کی فضا آج بھی آلودہ

عدالت کے ریمارکس

شعیب رزاق کا مزید کہنا تھا کہ جب حامد میر پر حملہ ہوا تو سپریم کورٹ نے کمیشن تشکیل دیا تھا۔ کم از کم ارشد شریف کی 25 سالہ صحافتی خدمات کا اتنا اعتبار کیا جائے کہ ان کے معاملے کو کھل کر بحث کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں ترمیم لانے کا فیصلہ

تحقیقات کا جاری عمل

سماعت کے دوران، جسٹس انعام امین منہاس نے ریمارکس دیے کہ جب ایک معاملہ سپریم کورٹ میں زیرِ التوا ہے تو ہائی کورٹ اس پر کیسے فیصلہ دے سکتی ہے؟ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ مختلف اداروں کی رپورٹس آئیں گی اور عدالت کو فیصلہ کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان حکومت کے 1 ہیلی کاپٹر اور 2 طیاروں کے سالانہ کتنے اخراجات ہیں؟ تفصیلات جان کر آپ حیران رہ جائیں

ڈی آئی جی کی رپورٹ

ڈی آئی جی اویس نے عدالت کو آگاہ کیا کہ کیس میوچل اسسٹنٹ پراسیس میں ہے، ایف آئی آر درج ہو چکی ہے، چالان جمع ہو چکے ہیں، اور دو ملزمان کو اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے۔ پنجاب پولیس کے مطابق اب تک سات رپورٹس سپریم کورٹ میں جمع کرائی جا چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دہشت گردی کا خطرہ، کوئٹہ سمیت بلوچستان کے اکثر علاقوں میں انٹرنیٹ بند

التواء کا مسئلہ

وکیل نے کہا کہ یہ کیس گزشتہ تین سال سے التواء کا شکار ہے اور صرف رپورٹس جمع کرانے تک محدود ہے۔ یہ معاملہ صرف میرے یا حامد میر کا نہیں، بلکہ پورے ملک کا ہے۔

ماضی کے فیصلے

بعد ازاں عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے بعد درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل سابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے بھی اس معاملے پر دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...