کراچی میں پٹاخوں کے گودام میں دھماکا، تینوں ذمہ داران کیخلاف کارروائی اور لائسنس منسوخی کی ہدایت
کراچی میں پٹاخوں کے گودام میں دھماکا
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایم اے جناح روڈ پر پٹاخوں کے گودام میں دھماکے کے واقعے کے حوالے سے محکمہ ایکسپلوزیو وزارتِ توانائی نے ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کو مراسلہ جاری کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب کی زیرصدارت ایپکس کمیٹی کا اجلاس، صوبے میں امن وامان اور غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے انخلا پر پیش رفت کا جائزہ
مراسلے کی تفصیلات
مراسلے میں لکھا گیا ہے کہ لائسنس کے برخلاف گودام میں بڑے پیمانے پر پٹاخے تیار کیے جاتے تھے، اور لائسنس جاری کرتے وقت بھی سیفٹی کے اصولوں کو جانچا نہیں گیا۔
یہ بھی پڑھیں: مجھ سمیت صاحب بھی حیران تھے کہ افتخارچوہدری کس حد تک جا سکتا تھا، خیر اس کے بعد معاملہ ٹھنڈا ہی رہا، دبنگ افسر کے سامنے ملنگ بیٹھ ہی جاتے ہیں
لائسنس کی خلاف ورزی
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ جس گودام میں دھماکا ہوا، اس کا لائسنس ڈپٹی کمشنر ساؤتھ نے جاری کیا تھا۔ لائسنس کے تحت 50 کلو پٹاخے یا 15 کلو سے زائد گن پاؤڈر رکھنے کی اجازت نہیں تھی۔ گودام مالک کو جاری کردہ لائسنس کی مدت 31 دسمبر 2024ء تک تھی، جبکہ وہاں 3 افراد حاجی اسامہ، حنیف اور ایوب نے کئی ٹن پٹاخے ذخیرہ کر رکھے تھے۔ ان تینوں افراد کے خلاف ایکسپلوزیو ایکٹ 1988ء کے تحت کارروائی ہونی چاہیے۔ 26 دسمبر 2023ء کو جاری کردہ لائسنس منسوخ بھی کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی:گھریلو ملازمہ مالکن کو بے ہوش کرکے لاکھوں روپے، ڈالر اور سونا لے اڑی
حفاظتی اقدامات کی ضرورت
مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ ایسے واقعات کو روکنے کے لئے افسران کو فزیکل ویریفکیشن کے لیے بھیجا جائے، اور لائسنس دینے سے پہلے ایکسپلوزیو رولز کی تمام شرائط پر عمل درآمد کرایا جائے۔
دھماکے کا متاثرہ افراد پر اثر
واضح رہے کہ کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع پٹاخوں کے گودام میں 21 اگست کو زور دار دھماکے کے نتیجے میں 6 افراد جاں بحق اور 30 زخمی ہو گئے تھے۔








