گھریلو ملازمہ پر تشدد کا کیس، گرفتار اسٹیج اداکارہ و ڈانسر ثمر رانا کو مقدمے سے بری کر دیا گیا
لاہور میں اسٹیج اداکارہ کی بریت
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) مقامی عدالت نے 14 سالہ گھریلو ملازمہ پر تشدد و جنسی زیادتی کے کیس میں گرفتار اسٹیج اداکارہ و ڈانسر ثمر رانا کو ڈسچارج کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: چین امریکہ کے ساتھ باہمی تعلقات کا درست راستہ تلاش کرنے کو تیار ہے، نائب وزیر خارجہ
عدالت کی کارروائی
اسٹیج اداکارہ ثمر رانا کو انویسٹی گیشن پولیس نواب ٹاؤن نے عدالت میں پیش کیا، جوڈیشل مجسٹریٹ زیب شہزاد چیمہ نے کیس کی سماعت کی اور ثمر رانا کو فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: سرگودھا والوں کو کم قیمت میں مزید خوبصورت بنانے کے لیے Aesthetic Hub کا افتتاح کر دیا گیا
پولیس کی ناکامی
عدالت نے حکم دیا کہ گرفتاری کے بعد 24 گھنٹے میں ملزمہ کو عدالت پیش نہ کرنے پر تفتشی افسر کے خلاف کارروائی کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے 15 پاکستانی گرفتار کر لیے
عدم ثبوت کی بنیاد پر ڈسچارج
عدالت کے مطابق پولیس کی جانب سے ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی، تاہم عدالت نے ریمارکس دیے کہ غیر ضروری طور پر مکینیکلی کسی بھی ملزم کا ریمانڈ نہیں دیا جا سکتا۔ ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا، ملزمہ ثمر رانا کے خلاف کوئی مواد موجود نہیں ہے، عدم ثبوت کی بنیاد پر ملزمہ ثمر رانا کو مقدمے سے ڈسچارج کیا جاتا ہے۔
مقدمے کی تفصیلات
واضح رہے کہ 25 اگست کو اسٹیج اداکارہ و ڈانسر ثمر رانا کو 14 سالہ ملازمہ پر تشدد، استحصال اور ملازمہ کے گینگ ریپ کی سہولت کاری کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔ پولیس نے بتایا تھا کہ متاثرہ لڑکی نے الزام عائد کیا تھا کہ اداکارہ کے گھر پر پانچ نامعلوم افراد نے ان کا ریپ کیا تھا جبکہ ثمر رانا نے انہیں جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ نواب ٹاؤن پولیس نے مقدمہ درج کر کے اداکارہ کو حراست میں لے لیا تھا。








