گھریلو ملازمہ پر تشدد کا کیس، گرفتار اسٹیج اداکارہ و ڈانسر ثمر رانا کو مقدمے سے بری کر دیا گیا
لاہور میں اسٹیج اداکارہ کی بریت
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) مقامی عدالت نے 14 سالہ گھریلو ملازمہ پر تشدد و جنسی زیادتی کے کیس میں گرفتار اسٹیج اداکارہ و ڈانسر ثمر رانا کو ڈسچارج کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آئندہ ہفتہ کیسا گزرے گا ؟
عدالت کی کارروائی
اسٹیج اداکارہ ثمر رانا کو انویسٹی گیشن پولیس نواب ٹاؤن نے عدالت میں پیش کیا، جوڈیشل مجسٹریٹ زیب شہزاد چیمہ نے کیس کی سماعت کی اور ثمر رانا کو فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: دیرینہ دشمنی پر فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق
پولیس کی ناکامی
عدالت نے حکم دیا کہ گرفتاری کے بعد 24 گھنٹے میں ملزمہ کو عدالت پیش نہ کرنے پر تفتشی افسر کے خلاف کارروائی کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: اتحاد تنظیمات مدارس اور حکومت کا 2019 کا معاہدہ سامنے آگیا
عدم ثبوت کی بنیاد پر ڈسچارج
عدالت کے مطابق پولیس کی جانب سے ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی، تاہم عدالت نے ریمارکس دیے کہ غیر ضروری طور پر مکینیکلی کسی بھی ملزم کا ریمانڈ نہیں دیا جا سکتا۔ ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا، ملزمہ ثمر رانا کے خلاف کوئی مواد موجود نہیں ہے، عدم ثبوت کی بنیاد پر ملزمہ ثمر رانا کو مقدمے سے ڈسچارج کیا جاتا ہے۔
مقدمے کی تفصیلات
واضح رہے کہ 25 اگست کو اسٹیج اداکارہ و ڈانسر ثمر رانا کو 14 سالہ ملازمہ پر تشدد، استحصال اور ملازمہ کے گینگ ریپ کی سہولت کاری کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔ پولیس نے بتایا تھا کہ متاثرہ لڑکی نے الزام عائد کیا تھا کہ اداکارہ کے گھر پر پانچ نامعلوم افراد نے ان کا ریپ کیا تھا جبکہ ثمر رانا نے انہیں جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ نواب ٹاؤن پولیس نے مقدمہ درج کر کے اداکارہ کو حراست میں لے لیا تھا。








