نریندر مودی نے ڈونلڈ ٹرمپ کی 4 فون کالز مسترد کردیں، جرمن اخبار کا دعویٰ
نریندر مودی کا ٹرمپ کی کالز کا جواب نہ دینا
نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے حالیہ ہفتوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کی جانے والی 4 فون کالز کا جواب دینے سے انکار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: زید خان نے اپنی والدہ زرین خان کی آخری رسومات ہندو طریقے سے کیوں ادا کیں؟
مودی کے ٹرمپ سے بات نہ کرنے کے اسباب
جرمن اخبار فرینکفرٹر الگمائنے سائٹنگ نے دعویٰ کیا ہے کہ مودی کی جانب سے ٹرمپ سے بات نہ کرنے کا فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ امریکی صدر کے اقدامات سے سخت نالاں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش نے پی ایس ایل کے لیے ناہید کو اسکواڈ سے ریلیز کردیا
جاپانی اطلاعات
جاپانی اخبار نکئی ایشیا نے بھی ایسی ہی اطلاعات دی ہیں کہ مودی ٹرمپ کی کالز سے گریز کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ میں آئندہ ہفتے 968 مقدمات سماعت کیلئے مقرر
بھارت اور امریکا کے تعلقات
بھارت اور امریکا کے درمیان تعلقات اس وقت سے کشیدہ ہیں جب صدر ٹرمپ نے بھارتی مصنوعات پر ٹیرف کو دوگنا کرتے ہوئے 50 فیصد تک بڑھا دیا جو کہ برازیل کے بعد کسی بھی ملک پر عائد سب سے زیادہ شرح ہے۔ اس میں روسی خام تیل کی بھارتی خریداری پر 25 فیصد اضافی ڈیوٹی بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں 37087 مجالس، 9825 جلوسوں کی مانیٹرنگ، 1421 ذاکرین و مقررین کی ضلع بندی، 809 کی زباں بندی کے احکامات جاری
امریکا کی ساکھ متاثر
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بھارت میں اس وقت سے امریکا کی ساکھ متاثر ہوئی ہے جب سے صدر ٹرمپ بار بار یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان لڑائی ان کی ثالثی کی وجہ سے رکی۔ بھارت نے اس دعوے کو مسترد کیا ہے۔ گزشتہ 2 دہائیوں میں بھارت اور امریکا چین کے اثرورسوخ کو محدود کرنے کے لیے قریب آئے تھے لیکن ٹرمپ کے سخت تجارتی اقدامات نے اس شراکت داری کو کمزور کر دیا ہے، جسے بیجنگ اور ماسکو خوش آئند قرار دے رہے ہیں۔
مودی کا چین کا دورہ
وزیرِاعظم مودی رواں ماہ کے آخر میں چین کا دورہ کریں گے جہاں وہ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ یہ مودی کا پہلا دورہ چین ہوگا، جسے بیجنگ کے ساتھ تعلقات میں نرمی لانے اور واشنگٹن و بیجنگ کے بدلتے تعلقات پر نظر رکھنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔








