1965ء کی جنگ شروع ہوئی تو لاہور اس کا مرکزی میدان کار زار ٹھہرا، اور یوں سڑک کا رابطہ بھی معطل ہو گیا اور کھوکھرا پار والی لائن بھی بند کردی گئی۔
تاریخی پس منظر
مصنف: محمد سعید جاوید
قسط: 230
1965ء کی جنگ کے آغاز کے وقت لاہور مرکزی میدان کار زار بن گیا، جس کے نتیجے میں سڑکوں کا رابطہ معطل ہوگیا اور کھوکھرا پار والی لائن بھی بند کر دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: مگر مچھ کو مکے اور لاتیں مار مار کر اپنی بیوی کو بچایا، بیوی کو مگر مچھ کے حملے سے بچانے والے بہادر شوہر کا بیان سامنے آگیا
ریل کا رابطہ منقطع
اس کے بعد کئی سال تک دونوں ممالک میں ریلوے کا نظام مکمل طور پر موقوف رہا، حالانکہ دونوں جانب کی پٹریاں اور اسٹیشن محفوظ تھے۔ یہ سلسلہ تقریباً 6 سال جاری رہا، اور اس دوران مشرقی پاکستان میں حالات بگڑتے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلیا کا T20 ورلڈ کپ کے لیے ابتدائی سکواڈ کا اعلان
1971ء کی جنگ
1971ء میں صورتحال انتہائی خراب ہوگئی، جس کے نتیجے میں ہندوستان دونوں طرف کی خانہ جنگی میں ملوث ہوا اور ایک شدید جنگ چھڑ گئی۔ اس جنگ کے نتیجے میں مشرقی پاکستان کی علیٰحدگی ہوئی اور بنگلہ دیش قائم ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان میچ سے قبل پچ رپورٹ سامنے آگئی
ریلوے نظام پر اثر
اس جنگ کے بعد پاکستان ریلوے کے نظام پر منفی اثرات مرتب ہوئے، کیونکہ مشرقی پاکستان میں چلنے والی پاکستان ایسٹرن ریلوے مکمل طور پر ہاتھ سے نکل گئی اور اسے بنگلہ دیش ریلوے کا نام دے دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: مودی سرکار پر ٹرمپ کا ایک اور کاری وار، 7 بھارتی کمپنیوں پر پابندی عائد
شملہ سمجھوتہ
جنگ کے تقریباً 6 ماہ بعد حالات بہتر ہونے لگے اور دونوں حکومتوں کے درمیان شملہ سمجھوتہ طے پایا، جس میں جنگی مسائل پر معاہدہ کیا گیا اور فوجوں کی واپسی کے ساتھ ساتھ عوامی روابط کو بحال کرنے کے اقدامات کیے جانے کا وعدہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر سستا، سٹاک مارکیٹ میں زبرست تیزی
دوستی کی فضاء قائم کرنا
اس سمجھوتے کے تحت پاکستان اور ہندوستان کے بیچ ایک ریل گاڑی چلانے کا فیصلہ کیا گیا، جو لاہور اور دہلی کے درمیان کم از کم دو بار چلتی، تاکہ دونوں ملکوں کے باشندے اپنے عزیزوں سے مل سکیں اور دیگر مذہبی مقامات پر جا سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے لیے ایک ساتھ اچھی اور بُری خبر
سکھ یاتریوں کی سہولت
سکھوں کے لئے بھی یہ ریل گاڑی ایک نعمت ثابت ہوئی، کیونکہ ان کے مقدس مقامات پاکستان میں واقع ہیں اور وہ باقاعدگی سے عبادات کے لئے آتے جاتے تھے۔ یہ سفر ان کے لیے کم خرچ ہوئی۔
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








