پنجاب حکومت ہر سیلاب متاثرین تک پہنچے گی، نقصان کا ازالہ کرے گی، وزیراعلیٰ پنجاب
پنجاب حکومت کی امدادی کوششیں
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت ہر سیلاب متاثرین تک پہنچے گی اور نقصان کا ازالہ کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (ہفتے) کا دن کیسا رہے گا؟
شاہدرہ کا دورہ
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے شاہدرہ کا دورہ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نارووال مکمل طور پر ڈوبا ہوا ہے، سیالکوٹ میں صورتحال باندہ ہے۔ ڈپٹی کمشنرز نے دن رات محنت کرکے لوگوں کا انخلا کیا۔ اگر تیاری نہ ہوتی تو جس طرح کا سیلاب آیا ہے، نقصان کافی زیادہ ہوتا۔ پنجاب کی انتظامیہ نے پچاس ہزار سے زائد لوگوں کو محفوظ مقام پر پہنچایا، اور لوگوں کے مال مویشیوں کو بھی محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ مریم نواز کا قلات میں 12 بھارتی حمایت یافتہ دہشتگرد جہنم واصل کرنے پر فورسز کو خراج تحسین
انتظامی کارکردگی
مریم نواز کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے کوئی جان نہیں گئی۔ عوام سے اپیل ہے کہ وہ پانی سے دور رہیں، اور والدین اپنے بچوں کو سیلابی مقامات سے دور رکھیں۔ پنجاب حکومت ہر سیلاب متاثرین تک پہنچنے کے عزم کے ساتھ نقصان کا ازالہ کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: جسٹس ڈوگر کا لاہور ہائیکورٹ میں سینیارٹی لسٹ میں 15واں نمبر تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ میں سینیارٹی کیسے اور کس اصول کے تحت دی گئی،جسٹس نعیم اختر افغان
حکومتی یقین دہانی
ان کا کہنا تھا کہ میں پنجاب کے تمام ڈی سیز، سول ڈیفنس اور ریسکیو اداروں کو شاباش دیتی ہوں۔ میں پنجاب کے عوام سے یہ کہنا چاہتی ہوں کہ میں اور میری پوری حکومت آپ کے ساتھ کھڑی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گھروں میں کام کے بہانے چوریاں کرنے والے گینگ کی سرغنہ پکڑی گئی، کیا کچھ برآمد ہوا؟ پاکستانی حیران پریشان
پانی کی اہمیت
مریم نواز نے کہا کہ میں نے راوی میں کبھی اتنا پانی نہیں دیکھا۔ ہمیں اپنے انفراسٹرکچر، واٹر اسٹوریج اور ڈیمز بنانا چاہئے۔ پانی اللہ کی نعمت ہے، اور پانی ذخیرہ کرنے کے لیے سٹرکچر بنانا بہت ضروری ہے۔
جاری صورتحال
ان کا کہنا تھا کہ پانی کا بہاؤ اب کم ہو رہا ہے، لیکن پنجاب کے کچھ حصوں میں موسلادھار بارشیں روز کی بنیاد پر جاری ہیں۔ ہمارے تین دریاؤں میں پانی کا شدید دباؤ ہے، اور ہمارے دریاؤں کی گنجائش سے زائد پانی آیا، جس کی توقع نہیں تھی۔ انتظامیہ نے دن رات کام کیا ہے، اور ریسکیو اداروں نے بھرپور کام کیا ہے۔ گجرات میں صورت حال بہت گمبھیر تھی۔








