میڈیا میں جو تنخواہ رپورٹ ہوئی اس میں ایک صفر زیادہ لگا ہے، چیئرمین ایس ای سی پی کا سینیٹ کمیٹی خزانہ میں تنخواہ بتانے سے گریز
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس میں چیئرمین ایس ای سی پی نے اپنی تنخواہ بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہاکہ میڈیا میں جو تنخواہ رپورٹ ہوئی اس میں ایک صفر زیادہ لگا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی فی تولہ قیمت میں بڑی کمی
اجلاس کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا سلیم مانڈوی والا کی زیرصدارت اجلاس ہوا۔ اجلاس میں ایس ای سی پی کے 26 کروڑ روپے سے زیادہ کے آڈٹ اعتراض کے معاملے پر بحث ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: ضلع کرم میں پولیس پوسٹ پر خوارج کا حملہ، 2 پولیس اہلکار شہید، 4 دہشتگرد ہلاک
چیئرمین ایس ای سی پی کی طرف سے وضاحت
چیئرمین ایس ای سی پی کا کہنا تھا کہ 2020 کے بعد معاملہ آیا تھا اس وقت آڈٹ اعتراض نمٹا دیا گیا۔ سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ چیئرمین ایس ای سی پی بتائیں ان کی تنخواہ کتنی ہے، بورڈ کو تنخواہ بڑھانے کا اختیار دے دیا جاتا ہے جو غلط ہے۔ چیئرمین ایس ای سی پی نے سوال پر اپنی تنخواہ بتانے سے گریز کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں ڈیجیٹل انقلاب کا آغاز ہو چکا، پنجاب ایگریکلچر، فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کا قیام عوامی خدمت کا منہ بولتا ثبوت ہے: وزیر اعلیٰ مریم نواز
میڈیا میں تنخواہوں کی خبریں
سینیٹر انوشہ رحمان نے کہاکہ میڈیا میں 3 ارب 77 کروڑ روپے کی خبر غلط چلائی گئی، کل رقم 37 کروڑ روپے تھی۔ اے جی پی آر سے یہ رپورٹ کیسے نکل گئی؟ ایس ای سی پی نے ان میڈیا ہاؤسز کے خلاف پیکا قانون کے تحت کارروائی کیوں نہیں کی؟
یہ بھی پڑھیں: سیاست سے باہر نکلیں اور ٹیم کے لئے کھیلیں، یونس خان کا مشورہ
تنخواہوں کے معاملات پر بحث
فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ ججز فل کورٹ بٹھا کر اپنی تنخواہ نہیں بڑھا سکتے تو ریگولیٹرز کیسے بڑھا رہے ہیں۔ چیئرمین ایف بی آر نے کہاکہ ایس او ای قانون میں یہ اختیار دیا گیا تھا۔ انوشہ رحمان نے کہاکہ صرف دو ریگولیٹرز بورڈ کو تنخواہ بڑھانے کا اختیار دیا گیا۔
آئندہ کے اقدامات
سینیٹر عبدالقادر نے کہاکہ چیئرمین نیپرا کی تنخواہ بھی 30 سے 32 لاکھ ہے۔ چیئرمین ایف بی آر نے کہاکہ ایس او ایز قانون کے بعد مسائل میں اضافہ ہوا۔ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں تمام ایس او ایز میں تنخواہوں کی تفصیلات طلب کرلیں۔








