اماراتی بزنس مین سہیل الزرعونی کی طرف سے سفیر پاکستان فیصل نیاز ترمذی کے اعزاز میں عشائیہ

عشائیہ اور نیٹ ورکنگ سیشن
دبئی (طاہر منیر طاہر) اماراتی بزنس مین سہیل الزرعونی کی میزبانی میں پاکستان کے متحدہ عرب امارات میں سفیر فیصل نیاز ترمذی کے اعزاز میں خصوصی عشائیہ اور نیٹ ورکنگ سیشن کا اہتمام کیا گیا۔ یہ شام باہمی مکالمے اور ثقافتی تبادلے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: نااہلی، غفلت اور بدانتظامی پر سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ جیل سیالکوٹ کے خلاف ایکشن
شرکاء کی شرکت اور خیالات کا تبادلہ
شرکاء نے کاروبار، کمیونٹی کی ترقی اور پاکستان و متحدہ عرب امارات کے درمیان مضبوط تر ثقافتی تعلقات کی اہمیت پر کھلے اور بصیرت افروز خیالات کا تبادلہ کیا۔ پُرسکون ماحول نے مہمانوں کو پیشہ ورانہ اور ذاتی سطح پر جڑنے کا موقع فراہم کیا، جس سے مختلف صنعتوں اور کمیونٹیز میں تعاون کو فروغ ملا۔
یہ بھی پڑھیں: پوپ فرانسس چل بسے، نئے پوپ کا انتخاب کیسے ہوگا؟ ووٹنگ کا وہ خفیہ طریقہ جو آپ کو شاید معلوم نہیں
معزز مہمان اور شرکت کرنے والے افراد
اس پرمسرت محفل میں کاروباری، فنی اور سفارتی دنیا کی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔ معزز مہمانوں میں سعد حق، گروپ سی ای او ایچ اینڈ ایس پراپرٹیز و رئیل اسٹیٹ؛ چوہدری عاطف اے. قیوم، ہیڈ آف سیلز ایچ اینڈ ایس رئیل اسٹیٹ؛ شیخ نعیم جمیل، تابش زیدی، سی ای او جیم اینڈ کو اور محمد نعیم، سی ای او گلازینم یو اے ای شامل تھے۔ اس کے علاوہ نمایاں کاروباری اور سماجی شخصیات میں محمد اوادھی، علی پرویز، اعجاز الکلوار، راحیل رنچ، ریاض احمد تنولی، انساب بن جوید، مبارک الزرعونی، سعید الزرعونی، سلطان الزرعونی، زید الزرعونی اور خلیفہ الزرعونی بھی موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم پاکستان کا سعودی عرب کا دورہ مکمل کرکے وطن واپس روانہ
سفیر کا شکریہ اور گفتگو
سہیل الزرعونی نے سفیر فیصل نیاز ترمذی کی پاکستانی کمیونٹی کے لیے خدمات کو سراہا اور ان کی کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کیا کہ وہ دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ فعال روابط قائم کرنے میں پیش پیش ہیں۔ سفیر فیصل نیاز ترمذی نے بھی جناب الزرعونی کی شاندار میزبانی کو سراہا اور ان کے معروف ذاتی کلیکشن اور مجلس کی جمالیاتی ترتیب میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔
اختتام اور پیغام
یہ تقریب خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی، جہاں شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کی محافل باہمی سمجھ بوجھ، تعاون اور خیرسگالی کو فروغ دینے کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ اسے ایک ایسی شام قرار دیا گیا جو باہمی احترام، ثقافتی وقار اور مشترکہ وژن کی عکاس تھی۔ یہ عشائیہ اس امر کی تجدید تھا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات کو عوامی روابط، ثقافتی سفارت کاری اور کمیونٹی کے مابین تعلقات کو مزید مستحکم بنا کر مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔