لاہور کی راوی کنارے بستیاں زیر آب، بھارت سے آج ایک اور سیلابی ریلا آئے گا

سیلاب کی صورتحال لاہور میں
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی آبادیاں بھی سیلاب کی زد میں آ گئیں، لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ بھارت سے آج شام ایک اور سیلابی ریلا چناب میں آئے گا۔ آج پنجاب سمیت ملک بھر میں مون سون بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کی پیشگوئی کی گئی ہے، جس سے سیلابی صورتحال بدتر ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کچلاک اور سبی لائن پر گاڑیوں پر پتھراؤ کیا جاتا ہے، یہ سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے، یوں محسوس ہوتا ہے کہ آپ گاڑی نہیں قید خانے میں سفر کر رہے ہیں۔
متاثرہ اضلاع کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق راوی، چناب اور ستلج میں طغیانی نے لاہور، قصور، جھنگ، حافظ آباد، پاکپتن، سیالکوٹ، چنیوٹ، منڈی بہاؤالدین، گوجرانوالہ، وزیر آباد، سرگودھا، نارووال، بہاولنگر اور بہاولپور سمیت کئی اضلاع کو شدید متاثر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آپ کسی کو بھی خوش نہیں کر سکتے، عادت، عادت ہے اسے کھڑکی سے باہر نہیں پھینک سکتے، اسے دور کرنے کیلئے قدم قدم زینہ طے کرنا ہو گا.
پنجاب کا بدترین سیلاب
صوبہ پنجاب میں چار دہائیوں میں آنے والے بدترین سیلاب کی وجہ سے حکام کے مطابق رواں ہفتے کے دوران 14 لاکھ 60 سے زیادہ لوگ گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔ حالیہ سیلاب نے سینکڑوں دیہات میں تباہی مچائی، جس کے نتیجے میں اناج کی اہم فصلیں بھی زیر آب آ گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مستونگ میں پولیس ٹرک کے قریب دھماکا، 3 اہلکار شہید 2 زخمی
دریاؤں کی صورتحال
پنجاب کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے کہا کہ مون سون کی طوفانی بارشوں اور پڑوسی ملک کی جانب سے اپنے ڈیموں سے زیادہ پانی چھوڑنے سے صوبے میں بہنے والے تین دریاؤں میں پانی کا بہاؤ زیادہ ہوا۔ بعض جگہوں پر دریا کے کناروں کو توڑنا بھی پڑا، جس کی وجہ سے 1692 سے زیادہ دیہات میں سیلابی پانی داخل ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹم کُک سے گزشتہ روز تکرارہوئی، ایپل کو بھارت میں موبائل فون تیار نہیں کرنے چاہئیں: ڈونلڈ ٹرمپ
لاہور میں نقل مکانی
لاہور
دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب سے لاہور کے کئی علاقے متاثر ہوئے ہیں، جہاں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔ رنگ روڈ سے ملحقہ بادامی باغ کے علاقے میں بھی دریائے راوی کا سیلابی پانی داخل ہوا، چوہنگ کے مختلف علاقے بھی زیر آب آ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں تباہی مچانے والے پاکستان کے فتح میزائل کی خصوصیات
بھارت سے چناب میں نیا ریلا کی آمد
بھارت سے چناب میں نیا ریلا
فلڈ فورکاسٹنگ پنجاب نے بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کا نیا مراسلہ جاری کیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ بھارت سے سیلابی ریلا آج شام دریائے چناب ہیڈ تریموں بیراج پہنچے گا۔ ہیڈ تریموں بیراج پر انتہائی اونچے درجے کا سیلابی ریلا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز سے امریکی کانگریس کے وفد کی ملاقات، پنجاب میں غیر ملکی اداروں کو سرمایہ کاری کی دعوت
نارووال اور چنیوٹ میں متاثرہ علاقے
نارووال کے کئی دیہات زیر آب آ گئے، ہزاروں ایکڑپر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔ چنیوٹ کی تحصیل لالیاں میں موضع کلری کا حفاظتی بند ٹوٹنے سے سو سے زائد دیہات پانی کی لپیٹ میں آ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: نئے انتخابات میں نواز شریف پھر وزیراعظم بن گئے، انہوں نے بڑے سیاسی قرینے سے بے نظیر بھٹو کو ہم خیال بنایا اور آئین سے 58ٹو بی کا خاتمہ کر دیا.
راول ڈیم کی صورتحال
راول ڈیم کے سپل وے کھول دیے گئے
این ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق پانی کی سطح 1,751 فٹ تک پہنچنے پر راول ڈیم کے سپل وے گیٹ کھول دیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: عیدالاضحیٰ پر یوٹیلیٹی سٹورز پر مصالحہ جات کی قیمتوں میں نمایاں کمی
بہاولپور میں شگاف
بہاولپور میں شگاف، دیہات زیرِ آب
بہاولپور میں دریائے ستلج کے زمندارہ بند میں شگاف پڑنے سے دیہات اور ہزاروں ایکڑ اراضی ڈوب گئی ہے۔
متاثرین کی صورتحال
متاثرہ اضلاع و موضع جات
پی ڈی ایم اے اب تک 2 لاکھ 65 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے جبکہ 355 ریلیف کیمپوں میں 1372 متاثرہ افراد مقیم ہیں۔