سیلابی صورتحال سے کاروباری سرگرمیاں اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر شدید متاثر، ٹیکس ریونیو پر منفی اثرات کا خدشہ

ملک میں بارشوں اور سیلاب کا اثر
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) شدید بارشوں اور سیلاب سے ملک بھر میں کاروباری سرگرمیاں اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر بری طرح متاثر ہوا ہے، جس کی وجہ سے ٹیکس ریونیو پر منفی اثرات کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فتنہ الہند کے ناپاک عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے: حنیف عباسی
ایف بی آر کی رپورٹ
سما ٹی وی کے مطابق، ذرائع ایف بی آر کا کہنا ہے کہ رواں ماہ ساڑھے 900 ارب ہدف کے بجائے وصولی 900 ارب تک محدود رہنے کا امکان ہے۔ سیلابی نقصانات کی اسیسمنٹ رپورٹ آنے پر حقیقی ریونیو شارٹ فال کا پتہ چلے گا۔ جولائی 2025 میں 748 ارب ہدف کے مقابلے 754 ارب روپے ٹیکس جمع کیا گیا۔ اگست میں 950 ارب روپے اور ستمبر میں 1300 ارب اکھٹے کرنے کا ہدف ہے۔ حالیہ چند دنوں میں کسٹمز ڈیپارٹمنٹ میں گڈز ڈکلیئریشنز میں کمی ہے، اور آنے والے دنوں میں تعمیراتی سرگرمیاں بحال ہونے سے ریونیو میں اضافے کا امکان ہے۔
ٹیکس وصولی کا ہدف
حکام کے مطابق، رواں مالی سال ٹیکس وصولی کا مجموعی ہدف 14 ہزار 131 ارب روپے ہے۔