راوی بیڈ پر تمام تعمیرات غیر قانونی، ایک کلومیٹر کے بیڈ پر آبادیوں کو ہٹایا جائے گا: سی ای او روڈا
راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی وضاحت
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (روڈا) کے سی ای او عمران امین نے کہا ہے کہ دریائے راوی کے بیڈ (گزرگاہ) پر کسی تعمیرات یا سوسائٹی کی تعمیر کا این او سی جاری نہیں کیا گیا، دریا کے اندر جو تعمیرات ہیں وہ سب غیرقانونی ہیں اور این او سی کے بغیر قائم کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جوڈیشل کمیشن کا قیام، سپیکر قومی اسمبلی نے نام مانگ لیے
تعمیرات کے خلاف ایکشن
نجی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سی ای او راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی عمران امین نے کہا کہ لاہور اور شاہدرہ سے ملحقہ کئی آبادیاں آبی گزرگاہ پر قائم ہیں، روڈا نے طے کیا ہے کہ راوی کے ایک کلومیٹر کے بیڈ پر جو آبادیاں قائم ہیں ان سب کو ہٹایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی فوجی افسران کے پاکستان میں دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کے مستند شواہد ہیں: لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری
غیرقانونی تعمیرات کی نشاندہی
عمران امین کا کہنا تھا کہ دریائے راوی کے بیڈ پر کسی تعمیرات یا سوسائٹی کی تعمیر کا این او سی جاری نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دریا کے اندر جو تعمیرات ہیں وہ سب غیرقانونی ہیں اور این او سی کے بغیر قائم کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بٹ کوائن کی قیمت نئی بلند ترین سطح ایک لاکھ 16 ہزار ڈالر سے تجاوز کرگئی
نئے شہر کے قیام کی اہمیت
سی ای او روڈا نے راوی کے کنارے نئے شہر کے قیام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب یہ منصوبہ مکمل ہوجائے گا تو لاہور 6 لاکھ کیوسک کا ریلا برداشت کرنے کے قابل ہوجائے گا۔
معاوضے کے مسائل کا حل
عمر امین نے مزید کہا کہ اب روڈا منصوبے کے لیے کسی سے زبردستی زمین نہیں لی جارہی، جن لوگوں کو ماضی میں کم معاوضہ ملا اب ان کا نقصان پورا کیا جا رہا ہے۔








