دریاؤں کی زمینوں پر قائم ہاؤسنگ سوسائیٹیز سیلاب میں تباہی کی بڑی وجہ بنیں،خواجہ آصف
وزیر دفاع کی سیلابی صورتحال پر گفتگو
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے آبی گزرگاہوں پر کمرشل تعمیرات کی گئیں، دریاؤں کی زمینوں پر ہاؤسنگ سوسائیٹیز بنائی گئیں جس سے حالیہ سیلاب میں تباہی وبربادی ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: سرگودھا میں چھیڑ خانی کی شکایت پر خاتون قتل
قومی اسمبلی کا اجلاس
قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت شروع ہوا جس میں حالیہ سیلابی صورتحال پر بحث کی تحریک پیش کی گئی، حالیہ سیلابی صورتحال پر بحث کی تحریک وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے پیش کی۔
یہ بھی پڑھیں: ٹاک ٹو سی ایم۔۔۔ وزیراعلیٰ تک خیالات پہنچانے کیلئے خصوصی پورٹل قائم ،نوجوان اپنا نام اورمختصر معلومات کیساتھ آئیڈیاز بھی شیئر کرسکیں گے
خطرناک سیلابی صورتحال کی وجوہات
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے سیلابی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ آفت قدرتی آفت نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے اعمال ہیں کہ ہم اتنی بڑی آفت کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے دریاؤں پر ہوٹل بنالیے ہیں، دریاؤں کے راستوں کو تنگ کرکے ہاؤسنگ سوسائیٹیاں بنائی جا رہی ہیں، اور نالوں کے اندر پلاٹ بناکر بیچ دیے گئے ہیں۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ جب آپ قدرت کے ساتھ کھلواڑ کریں گے تو فطرت اس کا جواب دے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال سیلاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے مگر ہم دنیا اور یو این سے مدد مانگتے ہیں جبکہ اپنے اعمال درست نہیں کرتے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت نے پنشن اور تنخواہ ایک ساتھ لینے پر عائد پابندی ختم کردی
تجاوزات اور قومی اتفاق رائے
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ دریاؤں کی زمینوں پر ہاؤسنگ سوسائیٹیاں بنائی گئیں، اور سیالکوٹ میں دریا کے راستوں کو آباد کردیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ہم نے گزشتہ برسوں میں تجاوزات کے خلاف کتنی کارروائیاں کیں؟
انہوں نے نشاندہی کی کہ ملک میں بڑے ڈیم صرف آمروں کے دور میں بنائے گئے، کیونکہ ان کے پاس طاقت ہوتی ہے اور وہ قومی اتفاق رائے پیدا کر لیتے ہیں۔ لیکن سیاست دانوں کی اختلافات اور سیاسی دکانداری کی وجہ سے قومی معاملات پر یکجہتی قائم نہیں ہو پاتی۔
یہ بھی پڑھیں: موٹروے پر بیوی بھول کر شوہر گاڑی لے کر نکل پڑا، پولیس نے واپس ملوا دیا
نئے ڈیمز کی ضرورت
خواجہ آصف نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ قومی اتفاق رائے سے نئے ڈیمز تعمیر کیے جائیں تاکہ مستقبل میں تباہ کن سیلابی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
چھوٹے ڈیمز کی ضرورت
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کہیں کوئی نہر یا ڈیم بنانے کی بات کی جائے تو سڑکیں نہیں بند کرنی چاہییں۔ ہمیں فوری طور پر چھوٹے ڈیم بنانے کی ضرورت ہے، کیونکہ اگر ہم 10 سے 15 سال انتظار کریں گے تو سب کچھ ڈوب جائے گا۔








