پانی مزید بڑھا تو ملتان کے ہیڈ محمد والا میں شگاف لگانا پڑ سکتا ہے، ڈی جی پی ڈی ایم اے
ملتان میں بڑھتے ہوئے خطرات
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب عرفان علی کاٹھیا نے کہا ہے کہ آج رات ملتان میں زیادہ خطرہ ہے۔ شام میں ہیڈ محمد والا پر پانی زیادہ بڑھنے کی صورت میں شگاف لگانا پڑ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا ایران کے ساتھ ترجیحی شعبوں میں دوطرفہ روابط بڑھانے کے لیے عزم کا اعادہ
ہیڈ بلوکی کی صورت حال
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق، لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے بتایا کہ ہیڈ بلوکی پر پانی کی سطح فی الحال برقرار ہے۔ تاہم ہیڈ محمد والا پر پانی میں اضافے کی توقع ہے جس کے باعث وہاں ٹریفک بند کر دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا کے فنڈز کو ذاتی تشہیر کیلئے استعمال کرنا شرمناک ہے: عظمیٰ بخاری
بھارتی پانی کے اثرات
عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑا گیا ہے، جس کا ریلا مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔ حالیہ بارشوں کے باعث ریسکیو آپریشن متاثر ہوا ہے، جبکہ سب سے زیادہ خطرہ آج رات ملتان میں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد کی ٹک ٹاکر سامعہ حجاب کے اغوا کی کوشش اور قتل کی دھمکی دینے والے ملزم نے اعترافِ جرم کرلیا
اہم اوقات اور دریائی صورت حال
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی جانب سے اضافی پانی کے چھوڑے جانے کے بعد آئندہ 4 سے 6 گھنٹے نہایت اہم ہیں۔ دریائے چناب کا بڑا ریلا ہیڈ تریموں سے نکل کر آج رات ملتان پہنچے گا، جبکہ ہیڈ سنگنائی پر پانی کی سطح تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس سے پیر محل اور خانیوال متاثر ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دبئی کی پہلی ہوائی ٹیکسی آزمائشی پرواز کی سہولت،ایئر کرافٹ ایک پائلٹ اور چار مسافروں کو لے جا سکتا ہے
وسیع پیمانے پر ریسکیو آپریشن
انہوں نے کہا کہ پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن جاری ہے، جس میں فوج، ریسکیو 1122، سرکاری ادارے اور نجی تنظیمیں شریک ہیں۔ بارشوں کی وجہ سے ریسکیو سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں، مگر وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر متاثرہ خاندانوں کو خوراک اور امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں اسرائیل کی حمایت کم ہوئی ہے، امریکا میں سب سے طاقتور لابی یہودی لابی تھی: ڈونلڈ ٹرمپ
یادگار نقصانات
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق، اب تک 10 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ 26 تاریخ سے اب تک 41 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ ایرانی صارفین کا ڈیٹا اسرائیلی خفیہ ایجنسی کو منتقل کر رہا ہے، ایرانی میڈیا کا دعویٰ
متاثرہ علاقوں کی اطلاعات
ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید کے مطابق، سیلاب سے اب تک 3200 سے زائد دیہات اور 24 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں 395 ریلیف کیمپس، 392 میڈیکل کیمپس اور 336 ویٹرنری کیمپس قائم کیے جا چکے ہیں۔ اب تک 9 لاکھ 99 ہزار افراد اور 7 لاکھ 8 ہزار سے زائد مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی سی اے پی یو اے ای کے زیر اہتمام بیڈمنٹن ٹورنامنٹ کا انعقاد، 23 ٹیموں کی شرکت
ڈیموں کی صورتحال
انہوں نے بتایا کہ منگلا ڈیم 82 فیصد جبکہ تربیلا ڈیم 100 فیصد بھر چکا ہے۔ اسی طرح بھارت کے بھاکڑا ڈیم میں 84 فیصد، پونگ ڈیم میں 98 فیصد اور تھیئن ڈیم میں 92 فیصد پانی بھرنے کی اطلاع ہے۔ یہ صورتحال خطرے میں مزید اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ خولہ چودھری جیل سے رہا، 30 یوم کے لیے نظر بند کیا گیا
بارش کی تازہ معلومات
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں میں پنجاب کے مختلف اضلاع میں بارش ریکارڈ کی گئی، جن میں نارووال میں سب سے زیادہ 77 ملی میٹر جبکہ لاہور میں 21 اور راولپنڈی میں 64 ملی میٹر بارش شامل ہے۔
شہریوں کے لیے ہدایات
حکام نے دریاؤں کے قریب رہنے والے شہریوں کو فوری انخلاء کی ہدایات دی ہیں اور کہا ہے کہ متاثرین کے نقصانات کا ازالہ یقینی بنایا جائے گا، خاص طور پر کسانوں کے مالی نقصانات کا تخمینہ لگا کر ان کی امداد کی جائے گی۔








