سینیٹ؛ سینیٹر انوشہ رحمان کی نیب کے نمائندے کو بھی فائیو جی سپیکٹرم کی آکشن ایڈوائزری کمیٹی میں رکھنے کی تجویز
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کا اجلاس
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کے اجلاس میں ن لیگ کی سینیٹر انوشہ رحمان نے نیب کے نمائندے کو آکشن ایڈوائزری کمیٹی میں رکھنے کی تجویز دی۔ انوشہ رحمان نے کہا کہ اگر نیب کے نمائندے کو شامل نہیں کیا گیا تو کل آڈٹ پیراز اور نیب کیسز بنیں گے۔ انہوں نے اے جی پی آر کے نمائندے کو بھی کمیٹی میں شامل کرنے کی تجویز دی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں دسویں جماعت کے طالب علم نے مبینہ طور پر خودکشی کرلی
فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی پر بریفنگ
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق، پلوشہ خان کی زیرصدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کا اجلاس ہوا۔ فائیو جی کیلئے سپیکٹرم کی نیلامی پر قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے وزارت آئی ٹی کے حکام نے بتایا کہ وزیراعظم سے اس بارے میں بات چیت ہوئی تھی۔ ہمایوں مہمند نے کہا کہ عدالتوں میں زیرسماعت سپیکٹرم کے کیسز پر جلد فیصلہ کروائیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں پولیس کا سرچ آپریشن، 113 مشتبہ افراد گرفتار
پی ٹی اے کی مشاورت
پی ٹی اے کے حکام نے کہا کہ کنسلٹنٹ پی ٹی اے نے 6 ماہ پہلے ہی ہائر کیا ہوا ہے اور مجموعی طور پر 600 میگاہرٹز بینڈ وڈتھ کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے گا۔ کنسلٹنٹ نے مارکیٹ کا تجزیہ کرکے آکشن ایڈوائزری کمیٹی کو سفارشات دی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: علی امین گنڈاپور کی نااہلی کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
نیب کا کردار
انوشہ رحمان نے کہا کہ نیب کے نمائندے کو سپیکٹرم نیلامی کمیٹی کا حصہ بنایا جائے تاکہ شفافیت برقرار رہے۔ ممبر پی ٹی اے نے بتایا کہ چیئرمین پی ٹی اے نے بھی نیب والوں کو آکشن سپروائزری کمیٹی میں شامل کرنے کی بات کی۔
پی ٹی سی ایل کا آڈٹ
چیئرمین کمیٹی پلوشہ خان نے پوچھا کہ پی ٹی سی ایل کا آڈٹ کیوں نہیں ہوتا؟ سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ پی ٹی سی ایل نے حکومت پاکستان کے 800 ملین ڈالر دینے ہیں۔ وزارت آئی ٹی کے حکام نے کہا کہ موجودہ پی ٹی سی ایل کی مینجمنٹ نہیں چاہتی کہ یہ تنازع حل ہو۔








