لاہور ہائیکورٹ میں خاتون کی بازیابی کا کیس، وکیل کا مغویہ کو جنات کے ذریعے غائب کرنے کا الزام
لاہور: ہائیکورٹ میں سماعت
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) ہائیکورٹ میں کاہنہ کے علاقہ سے 6 سال قبل اغوا ہونے والی خاتون کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ وکیل نے مغوی خاتون کو جنات کے ذریعے غائب کرنے کا الزام لگا دیا۔
یہ بھی پڑھیں: کیا امریکی حملوں میں ایرانی جوہری تنصیبات مکمل تباہ ہوگئیں؟
خاتون کی عدم بازیابی
عدالت کو وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ 6 سال سے زائد عرصہ سے خاتون غائب ہے۔ جس پر چیف جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ درخواست گزار کی بیٹی کی عمر کتنی تھی؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ اس کی عمر 29 سال تھی اور ایک بیٹا بھی تھا۔ درخواست گزار خاتون کے مطابق اس کی بیٹی کو جنات لے گئے ہیں، جبکہ پولیس نے بازیاب نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: لوگوں کو سیلاب کی وارننگ دینے کے لیے 37 سال سے استعمال کیا جانے والا الارم
غائب ہونے کی وجوہات
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ اس کا کیا کوئی مسئلہ تھا، کیسے وہ گھر سے غائب ہوئی؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ اس کا گھر میں لڑائی جھگڑا رہتا تھا۔ درخواست گزار خاتون کے مطابق جنات وغیرہ نے غائب کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائی کورٹ نے سی ڈی اے ختم کرنے کا عدالتی حکم معطل کر دیا
جنات کی شمولیت کا سوال
چیف جسٹس نے کہا کہ اگر جنات نے غائب کیا ہے تو آپ نے جنات کو پارٹی نہیں بنایا۔ انہیں پارٹی بنایا جائے تھا۔ مغوی خاتون کا بچہ کہاں ہے؟ وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ بچہ نانی کے پاس ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ترکی کا شام کو تقسیم کرنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف براہ راست مداخلت کا اعلان
عدالتی فیصلے
چیف جسٹس ہائیکورٹ نے وکیل سے مکالمہ کیا کہ کیا اس بچے کو جنات لے کر نہیں گئے؟ چیف جسٹس نے سی سی پی او کو مغوی خاتون کو بازیاب کرکے پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کردی۔
اغوا کا مقدمہ
درخواست گزار خاتون نے بیٹی فوزیہ بی بی کے اغوا کا مقدمہ 25 مئی 2019 کو تھانہ کاہنہ میں درج کرایا ہے، مقدمہ فوزیہ بی بی کے شوہر اور ساس کے خلاف درج کیا گیا۔








