خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ایف ایم سی میں سیلف ڈفنس ورکشاپ کا انعقاد
ایف ایم سی میں خواتین کے لیے سیلف ڈفنس ورکشاپ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) فضائیہ میڈیکل کالج (ایف ایم سی)، ایئر یونیورسٹی نے پاکستان مارشل آرٹس ایسوسی ایشن اور آئی ایف ایم ایس اے پاکستان کے تعاون سے خواتین کے لیے دو روزہ سیلف ڈفنس ورکشاپ کا کامیاب انعقاد کیا، جسے طلبہ، اساتذہ اور ماہرین نے بے حد سراہا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران اسرائیل تنازع پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج ہوگا
افتتاحی اجلاس
ورکشاپ کا آغاز پرنسپل فضائیہ میڈیکل کالج میجر جنرل (ر) محمد طاہر خادم، ہلال امتیاز (ملٹری) کی سرپرستی میں ہوا۔ اپنے افتتاحی خطاب میں انہوں نے اس اقدام کو خواتین کے لیے ’’اعتماد کی ڈھال‘‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا: "آج کے دور میں جب خواتین کو عوامی مقامات پر مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، اس قسم کی تربیت نہایت ضروری ہے۔ ہر شریک طالبہ یہاں سے زیادہ مضبوط، زیادہ باہمت اور زندگی کے لیے بہتر تیار ہو کر جائے گی۔" انہوں نے مزید کہا کہ ذہنی مضبوطی تعلیمی کامیابی کی طرح پاکستان کی نوجوان نسل کے لیے ناگزیر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گینگ آف کالا چورز کے پارٹنر کارکنوں میں “مظلوم بچہ” بننے کی ناکام کوشش: عظمیٰ بخاری
انقلابی اقدام
بریگیڈیئر (ر) پروفیسر محمد مظہر حسین، ستارہ امتیاز (ملٹری)، وائس پرنسپل ایف ایم سی نے ورکشاپ کو ایک انقلابی قدم قرار دیتے ہوئے کہا: "یہ صرف تربیت نہیں تھی بلکہ ایک تبدیلی تھی۔ اپنی بیٹیوں کو بلاک، ڈس آرم اور خود کا دفاع کرتے دیکھنا ہم سب کے لیے باعثِ فخر لمحہ تھا۔ پاکستان کو مزید ایسے اقدامات کی ضرورت ہے اور ایف ایم سی اس کارِ خیر کا حصہ بننے پر فخر محسوس کرتا ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: اڈیالہ جیل کے قریب تعینات پولیس اہلکار کی علیمہ خان سے عمران خان کے حق میں گفتگو
حوصلہ afzai
پاکستان اسپورٹس بورڈ سے محترمہ قرۃ العین نے کلیدی خطاب کیا جس کا موضوع تھا "حوصلہ متعدی ہے"۔ انہوں نے کہا کہ جب ایک خاتون اپنے دفاع کی صلاحیت حاصل کرتی ہے تو وہ دس دیگر خواتین کے لیے امید کی کرن بن جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں گلی میں کھیلتی بچی کے ساتھ نازیبا حرکات کرنے والے 2 افراد گرفتار
عملی تربیت کی قیادت
ورکشاپ کی عملی تربیت کی قیادت پی ایم اے اے کے صدر اور چیف ٹرینر انور محی الدین نے کی، جن کی معاونت وائس پریذیڈنٹ فائزہ راشد اور انسٹرکٹرز سمیعہ، سارہ گل، نورالہدیٰ اور ماہین شیخ نے کی۔ روایتی مارشل آرٹس ڈیمانسٹریشن کے برعکس اس تربیت میں حقیقی زندگی کے دفاعی طریقے شامل تھے، جیسے کہ چھری چھیننا، پستول سے بچاؤ، پریشر پوائنٹ اسٹرائیکس اور صورتحال کا درست اندازہ لگانا۔
یہ بھی پڑھیں: ملک سے بے روزگاری اور مہنگائی کے خاتمے کی کوشش کریں: شیخ رشید
سیلف ڈفنس کی اہمیت
انور محی الدین نے شرکاء کو بتایا: "سیلف ڈفنس جارحیت نہیں بلکہ بقا اور عزتِ نفس کا نام ہے۔ یہاں ہر نوجوان لڑکی صرف حرکات نہیں بلکہ اپنے مستقبل کی حفاظت کرنا سیکھ رہی ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: مجھے خوش رہنا اور دوسروں کو خوش دیکھنا پسند ہے” ثنا یوسف نے ایک اور ویڈیو وائرل
شرکاء کی خوشی
اس ورکشاپ میں ملک کی نامور جامعات جیسے نسٹ، فاسٹ، این ڈی یو، بحریہ یونیورسٹی، ایئر یونیورسٹی، آئی آئی یو آئی، فیڈرل میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج اور خود ایف ایم سی کے طلبہ نے پرجوش شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی
سیرین ایئر کی نمائندگی
تقریب کی خاص بات سیرین ایئر کی دو سینئر خواتین افسران، محترمہ عائشہ فاروق (منیجر فلائٹ سروسز) اور محترمہ سونینا یونس (منیجر فلائٹ آپریشنز) کی شرکت تھی۔ دونوں مہمانوں نے اس اقدام کو بے حد سراہا۔ عائشہ فاروق نے کہا: "جس پروفیشنل انداز سے تربیت دی گئی اور طالبات نے اعتماد کا مظاہرہ کیا، وہ حیران کن ہے۔ جیسے ایوی ایشن میں حفاظت اولین ترجیح ہے، ویسے ہی روزمرہ زندگی میں ہر خاتون کو اپنے دفاع کی صلاحیت آنی چاہیے۔ سیلف ڈفنس کو ہر ادارے کے نصاب کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔"
یہ بھی پڑھیں: بنوں میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، فتنہ الخوارج کے انتہائی مطلوب 2 ٹارگٹ کلرز ہلاک
مستقبل کے منصوبے
انہوں نے مزید اعلان کیا کہ سیرین ایئر جلد ہی پی ایم اے اے کے تعاون سے کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں اپنی خواتین عملے کے لیے خصوصی سیلف ڈفنس پروگرام کا آغاز کرے گی۔ محترمہ سونینا یونس نے بھی کہا: "یہ پروگرام محض دفاعی تکنیک نہیں بلکہ ہمت سکھاتا ہے۔ ایسے اقدامات کو قومی سطح پر فروغ دینا چاہیے۔"
اختتامی تقریب
ورکشاپ ایک شاندار اختتامی تقریب پر مکمل ہوئی جس میں شرکاء میں اسناد اور انعامات تقسیم کیے گئے۔








