جی ایچ کیو حملہ، 9 مئی کے 12 مقدمات کی سماعت بغیر کارروائی 17 ستمبر تک ملتوی
راولپنڈی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کا اجلاس
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سانحہ 9 مئی اور جی ایچ کیو حملہ سمیت 12 اہم مقدمات کی سماعت آج انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ہونا تھی تاہم جج امجد علی شاہ کی میڈیکل رخصت کے باعث تمام کیسز بغیر کسی کارروائی کے 17 ستمبر تک ملتوی کر دیئے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: آپ بانی پی ٹی آئی سے معاملات ٹھیک کریں، وعدہ کرتا ہوں آپ کی حکومت گرانے نہیں دیں گے: علامہ راجہ ناصر عباس
جیل ٹرائل مؤخر
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق عدالت کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق آج ان مقدمات کی جیل ٹرائل ہونا تھا مگر ایک بار پھر جیل ٹرائل مؤخر کر دیا گیا اور سماعت راولپنڈی کی کچہری عدالت میں ہوئی جہاں صرف حاضری لگائی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں دفعہ 144 کے نفاذ میں ایک مرتبہ پھر توسیع کردی گئی
عدالت میں موجود شخصیات
سرکاری پراسیکیوٹر ظہیر علی شاہ، وکلائے صفائی ملک فیصل ایڈووکیٹ اور حسنین سنبل ایڈووکیٹ عدالت پہنچے جبکہ سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد بھی سماعت کے موقع پر موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں: مسلمان ملکوں کے درمیان اتحاد ویکجہتی میں بقاء کاراز پنہاں ہے: انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ
تحریک انصاف کے رہنماؤں کی پیشی
عدالت نے تحریک انصاف کے سینئر رہنماؤں عمر ایوب اور شبلی فراز کو گرفتار کر کے آج پیش کرنے کا حکم دیا تھا تاہم کیس پر کوئی مزید کارروائی نہ ہو سکی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم آزادکشمیر کے خلاف تحریک عدم اعتماد یکم نومبر کو پیش کیے جانے کا امکان
جی ایچ کیو حملہ کیس کی تفصیلات
جی ایچ کیو حملہ کیس میں مجموعی طور پر 119 گواہان کی فہرست موجود ہے لیکن اب تک صرف 27 کے بیانات قلمبند کیے جا سکے ہیں، دیگر 11 مقدمات میں جی ایچ کیو گیٹ 4 پر حملے کا کیس بھی شامل ہے۔
اگلی سماعت کی توقعات
ذرائع کے مطابق اگلی سماعت پر جج کی دستیابی کی صورت میں باقاعدہ کارروائی شروع ہونے کی توقع ہے جبکہ سکیورٹی اور قانونی پیچیدگیوں کے باعث جیل ٹرائل کی تاریخ ایک بار پھر غیر یقینی کا شکار ہو گئی ہے.








