جی ایچ کیو حملہ، 9 مئی کے 12 مقدمات کی سماعت بغیر کارروائی 17 ستمبر تک ملتوی
راولپنڈی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کا اجلاس
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سانحہ 9 مئی اور جی ایچ کیو حملہ سمیت 12 اہم مقدمات کی سماعت آج انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ہونا تھی تاہم جج امجد علی شاہ کی میڈیکل رخصت کے باعث تمام کیسز بغیر کسی کارروائی کے 17 ستمبر تک ملتوی کر دیئے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی کے راستے پر آگے بڑھ رہا ہے، بلال اظہر کیانی کا ورلڈ گورنمنٹ سمٹ سے خطاب
جیل ٹرائل مؤخر
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق عدالت کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق آج ان مقدمات کی جیل ٹرائل ہونا تھا مگر ایک بار پھر جیل ٹرائل مؤخر کر دیا گیا اور سماعت راولپنڈی کی کچہری عدالت میں ہوئی جہاں صرف حاضری لگائی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کی بجٹ میں عام آدمی پر مزید بوجھ ڈالنے کی تیاری،کھانے پینے کی اشیا مہنگی ہونیکا امکان
عدالت میں موجود شخصیات
سرکاری پراسیکیوٹر ظہیر علی شاہ، وکلائے صفائی ملک فیصل ایڈووکیٹ اور حسنین سنبل ایڈووکیٹ عدالت پہنچے جبکہ سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد بھی سماعت کے موقع پر موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ہمیں ایسے لوگوں کی ضرورت نہیں جو جنگ جیتنے کے بعد شامل ہوں: امریکی صدر ٹرمپ
تحریک انصاف کے رہنماؤں کی پیشی
عدالت نے تحریک انصاف کے سینئر رہنماؤں عمر ایوب اور شبلی فراز کو گرفتار کر کے آج پیش کرنے کا حکم دیا تھا تاہم کیس پر کوئی مزید کارروائی نہ ہو سکی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل پہلی بار پشاور میں ہونے جا رہا ہے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے کھیل تاج محمد خان کا کرکٹ شائقین کے لیے بڑا اعلان
جی ایچ کیو حملہ کیس کی تفصیلات
جی ایچ کیو حملہ کیس میں مجموعی طور پر 119 گواہان کی فہرست موجود ہے لیکن اب تک صرف 27 کے بیانات قلمبند کیے جا سکے ہیں، دیگر 11 مقدمات میں جی ایچ کیو گیٹ 4 پر حملے کا کیس بھی شامل ہے۔
اگلی سماعت کی توقعات
ذرائع کے مطابق اگلی سماعت پر جج کی دستیابی کی صورت میں باقاعدہ کارروائی شروع ہونے کی توقع ہے جبکہ سکیورٹی اور قانونی پیچیدگیوں کے باعث جیل ٹرائل کی تاریخ ایک بار پھر غیر یقینی کا شکار ہو گئی ہے.








