ملزم کو مقابلے میں مارے جانے کا ڈر، کمرہ عدالت میں گرفتاری دے دی
اسلام آباد میں منشیات کیس کا نیا موڑ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ میں منشیات کے کیس میں ملوث ملزم نے مبینہ پولیس مقابلے کے خوف سے کمرہ عدالت میں اپنی گرفتاری دے دی۔ ملزم کے وکیل کی درخواست پر عدالت نے اس کی گرفتاری کو حکمنامے میں شامل کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کا پہلی مرتبہ پنجاب کی 65ہزار مساجد کے امام کے لئے وظیفہ مقرر کرنے کا فیصلہ
ملزم کا خود گرفتاری کا فیصلہ
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق، ملزم کے وکیل مظہر اقبال سدھو نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل نے ضمانت مسترد ہونے کے بعد خود گرفتاری دینے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ ان کا جعلی مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ پنجاب میں ایک فورس کو ان کاؤنٹر کرنے کا لائسنس دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ کی ہدایت پر پنجاب بھر میں یوم تشکر اور معرکہ حق و باطل کی پروقار تقریبات شروع، مریم نواز نے پرچم کشائی کرکے آغاز کیا
عدالت کی طرف سے حکمنامہ کی توثیق
وکیل نے عدالت سے گزارش کی کہ ملزم کی گرفتاری کو سپریم کورٹ کے حکمنامے میں شامل کیا جائے۔ ان کی درخواست کے بعد عدالت نے ملزم کی گرفتاری کو حکمنامے میں شامل کر لیا۔ درخواست ضمانت مسترد کرنے کے بعد ملزم نے اپنی درخواست واپس لے لی۔
مضبوط دلیل اور پراسیکیوٹر کا موقف
سپریم کورٹ میں دوران سماعت، پراسیکیوٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اے این ایف ایک آئینی اور قانونی فورس ہے، جس پر انہیں اعتماد ہے۔








