بھارتی پنجاب میں سیلاب نے کیا قیامت ڈھائی، کتنے افراد لقمۂ اجل بنے، فصلوں کو کتنا نقصان پہنچا؟ اہم تفصیلات سامنے آ گئیں
بھارتی پنجاب میں سیلاب کا اثر
امرتسر (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی پنجاب میں سیلاب نے کیا قیامت ڈھائی، کتنے افراد لقمۂ اجل بنے، کتنے دیہات زیر آب آئے، فصلوں کو کتنا نقصان پہنچا؟ اہم تفصیلات سامنے آ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: آئینی ترمیم یا کوئی اور معاملہ، مولانا فضل الرحمان کبھی گیلی پٹی پر پاؤں نہیں رکھتے، اپنی حیثیت اور اہمیت قائم رکھتے ہیں، سلمان غنی
نقصانات کا تخمینہ
’’جیو نیوز‘‘ نے بھارتی میڈیا کے حوالے سے بتایا کہ بھارتی پنجاب میں شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث مختلف حادثات میں 30 افراد ہلاک ہو گئے۔ بارشوں اور سیلاب کے باعث 3 لاکھ 54 ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ 1400 دیہات زیر آب آ گئے۔ تقریباً 20 ہزار لوگوں کو نشیبی اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے نکالا گیا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کو پناہ اور ضروری سہولیات فراہم کرنے کے لیے سیکڑوں امدادی کیمپ بھی قائم کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہماری حکومت کو کوئی خطرہ نہیں، 5 سال پورے کریں گے: بیرسٹر سیف
انتظامیوں کی کاروائیاں
اس کے علاوہ، انتظامیہ نے ریاست کے تمام 23 اضلاع کو سیلاب زدہ قرار دیا ہے۔ بارشوں سے ندیوں اور آبی ذخائر میں خطرناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تقریباً ایک لاکھ 48 ہزار ایکڑ زرعی اراضی پر فصلوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سکیورٹی فورسز کی خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 9 خوارج ہلاک
موسمی حالات
غیر ملکی میڈیا کے مطابق، بھارت کی شمالی ریاست پنجاب میں مون سون کے سیزن کے باعث ریاست میں شدید بارشیں ہو رہی ہیں جس سے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال ہے۔
وزیر اعلیٰ کا بیان
دوسری جانب، پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے سیلابی صورتحال پر کہا کہ یہ ریاست میں 1988 کے بعد سے بدترین سیلاب تھا۔








