پنجاب حکومت نے کسی کو کھانا تقسیم کرنے سے نہیں روکا، صرف معیار کی جانچ لازمی قرار دی : عظمیٰ بخاری
وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب کا بیان
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن ) وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے کسی بھی نجی تنظیم یا عام شہری کو سیلاب متاثرین میں کھانا تقسیم کرنے سے نہیں روکا۔
یہ بھی پڑھیں: نصیر الدین شاہ دلجیت دوسانجھ کی حمایت میں بول پڑے ، انتہا پسندوں کو کھری کھری سنا دیں
کھانے کی جانچ پڑتال کی ہدایت
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے صرف یہ ہدایت جاری کی ہے کہ کھانا تقسیم کرنے سے پہلے ضلعی انتظامیہ اور فوڈ اتھارٹی سے اس کی جانچ پڑتال لازمی کرائی جائے تاکہ غیر معیاری کھانے کے باعث متاثرین کی صحت کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کا معمر افراد کے لیے بڑا فائدہ سامنے آگیا
غیر معیاری کھانے کی شکایات
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ بعض مقامات پر نجی افراد کی جانب سے غیر معیاری کھانا تقسیم کرنے کی شکایات موصول ہوئی ہیں جس کے پیش نظر یہ فیصلہ عوام کی صحت کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے۔ سیلاب کے بعد متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض کے پھیلنے کا خدشہ موجود ہے، لہٰذا حکومت نے یہ اقدام متاثرین کے بہترین مفاد میں اٹھایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز مری سے واپسی پر فیلڈ ہسپتال دیکھ کر رک گئیں،ادویات کی مفت فراہمی اور ورکنگ کے بارے میں تفصیلات حاصل کیں۔
پروپیگنڈے کی نفی
عظمیٰ بخاری نے بعض حلقوں کی جانب سے کیے جانے والے پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کا متاثرہ علاقوں کا دورہ
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز خود متاثرہ علاقوں کے دورے کر رہی ہیں تاکہ انتظامیہ کو مکمل آگاہی ہو اور عوام کو یہ پیغام جائے کہ حاکم وقت ہر لمحہ ان کے ساتھ موجود ہے۔ عوام جانتے ہیں کہ ان کی وزیراعلیٰ ہر حال میں اور ہر جگہ ان کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے مسائل براہِ راست سن رہی ہیں۔








