پنجاب حکومت نے کسی کو کھانا تقسیم کرنے سے نہیں روکا، صرف معیار کی جانچ لازمی قرار دی : عظمیٰ بخاری
وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب کا بیان
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن ) وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے کسی بھی نجی تنظیم یا عام شہری کو سیلاب متاثرین میں کھانا تقسیم کرنے سے نہیں روکا۔
یہ بھی پڑھیں: سلمان اکرم راجا بتائیں عمران خان اور بشریٰ بی کو کمبل تک دینے نہیں دیا جارہا، آپ نے اس حوالے سے کیا کیا؟ مشال یوسفزئی
کھانے کی جانچ پڑتال کی ہدایت
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے صرف یہ ہدایت جاری کی ہے کہ کھانا تقسیم کرنے سے پہلے ضلعی انتظامیہ اور فوڈ اتھارٹی سے اس کی جانچ پڑتال لازمی کرائی جائے تاکہ غیر معیاری کھانے کے باعث متاثرین کی صحت کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کے اپنے بچوں کو پاکستان آنے سے روکنے پر خواجہ آصف کا ردِعمل
غیر معیاری کھانے کی شکایات
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ بعض مقامات پر نجی افراد کی جانب سے غیر معیاری کھانا تقسیم کرنے کی شکایات موصول ہوئی ہیں جس کے پیش نظر یہ فیصلہ عوام کی صحت کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے۔ سیلاب کے بعد متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض کے پھیلنے کا خدشہ موجود ہے، لہٰذا حکومت نے یہ اقدام متاثرین کے بہترین مفاد میں اٹھایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزارت مذہبی امور نے پرائیویٹ حج اسکیم 2026 کیلئے بکنگ کی تاریخ میں 22 اکتوبر تک توسیع کر دی۔
پروپیگنڈے کی نفی
عظمیٰ بخاری نے بعض حلقوں کی جانب سے کیے جانے والے پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کا متاثرہ علاقوں کا دورہ
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز خود متاثرہ علاقوں کے دورے کر رہی ہیں تاکہ انتظامیہ کو مکمل آگاہی ہو اور عوام کو یہ پیغام جائے کہ حاکم وقت ہر لمحہ ان کے ساتھ موجود ہے۔ عوام جانتے ہیں کہ ان کی وزیراعلیٰ ہر حال میں اور ہر جگہ ان کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے مسائل براہِ راست سن رہی ہیں۔








