خاتون اغوا کے کیس میں لاہور ہائی کورٹ کا سی سی پی او پر عدم اعتماد، آئی جی پنجاب کو کل طلب کر لیا
ہائی کورٹ کاہنہ کے اغوا کیس میں عدم پیشرفت پر آئی جی Punjab کو طلب
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) ہائی کورٹ نے کاہنہ کے علاقہ سے 6 سال قبل اغوا ہونے والی خاتون کی بازیابی سے متعلق کیس میں عدم پیشرفت پر آئی جی پنجاب کو کل طلب کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: دسترس فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام بچوں کی جانب سے منفرد نمائش
عدم بازیابی کیس کی سماعت
ایکسپریس نیوز کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عالیہ نیلم نے مغویہ فوزیہ بی بی کی عدم بازیابی کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے سی سی پی او لاہور کی رپورٹ کو عدم اطمینان کا اظہار کیا اور تفتیش میں پیش رفت نہ ہونے پر ناراضی کا اظہار کیا۔ مغویہ کی عدم بازیابی پر سی سی پی او بلال صدیق کمیانہ عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ "سی سی پی او صاحب، آپ کے تفتیشی افسر نے ضمنی لکھی ہے، پڑھیں اس کو، ایسے ضمنی لکھی جاتی ہے ایسے اہم کیسز میں۔"
یہ بھی پڑھیں: دبئی میں 41 بھکاری گرفتار، ان سے کتنے پیسے برآمد ہوئے؟ تہلکہ خیز انکشاف
تفتیشی افسر کی کارکردگی پر سوالات
عدالت نے کہا کہ "لگتا ہے اس تفتیشی افسر کو ترقی بھی دیدی گئی ہوگی"، چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ "تفتیشی نے سارے کام ایک ہی دن میں انجام دے دیئے ہیں۔"
یہ بھی پڑھیں: سونے کی ایک بار پھر اونچی اڑان، فی تولہ قیمت میں 3700 روپے اضافہ
مغویہ کی گمشدگی کا اثر
عدالت نے کہا کہ "کسی کا بچہ یا بچی ایک رات گھر نہ آئے تو گھر والوں کا کیا حال ہوگا"، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ "اتنا عرصہ ہوگیا خاتون کا کچھ پتہ نہیں کہاں ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے بھارت اور اسرائیل کے سائبر حملوں کے توڑ کیلئے اینٹی وائرس تیارکرلیا
سی سی پی او لاہور کا مؤقف
سی سی پی او لاہور نے مؤقف اپنایا کہ "لاپتہ لوگوں کے کیسز کیلئے الگ سے تحقیقات ہورہی ہیں"، لیکن چیف جسٹس نے کہا کہ "پیشرفت تو کہیں نظر نہیں آرہی، عدالت نے کہا کہ آئی جی پنجاب پیش ہوکر وضاحت دیں۔"
یہ بھی پڑھیں: غزہ ، لبنان میں مظلوم مسلمانوں کیلئے ریلیف فنڈ اکاونٹ کھولنے کا فیصلہ
درخواست گزار کا بیان
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ "چھ سال سے زائد عرصہ سے خاتون غائب ہے، اس کی عمر 29 سال تھی، ایک بیٹا بھی تھا"، اور یہ بھی کہا کہ "درخواست گزار خاتون کے مطابق اس کی بیٹی کو جنات لے گئے ہیں، اس کا گھر میں لڑائی جھگڑا رہتا تھا۔"
مقدمے کی تفصیلات
درخواست گزار نے بیٹی فوزیہ بی بی کے اغوا کا مقدمہ 25 مئی 2019 کو تھانہ کاہنہ میں درج کرایا، جس میں شوہر اور ساس کے خلاف الزام لگایا گیا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ "پولیس نے بازیاب نہیں کیا، بیٹی کی جان کو خطرہ ہے، عدالت پولیس کو فوزیہ بی بی کی بازیابی کا حکم دے۔"








