کرکٹر حیدر علی برطانیہ میں الزامات سے باعزت بری، پاسپورٹ واپس مل گیا
حیدر علی کے خلاف کیس ختم
لندن (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستانی بیٹر حیدر علی کے خلاف برطانیہ میں مبینہ ریپ کیس ختم کر دیا گیا ہے۔ مانچسٹر پولیس نے تصدیق کی ہے کہ ان پر لگائے گئے الزامات کو ثابت کرنے کے لیے ثبوت موجود نہیں تھے، جس کے بعد معاملہ نمٹا دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پختونخوا حکومت کا افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل فوری روکنے کا مطالبہ
تحقیقات کا اختتام
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق پولیس اور کراؤن پراسیکیوشن سروس کے ذرائع کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کیس داخل دفتر کر دیا گیا۔ حیدر علی کی وکالت معروف برطانوی وکیل بیرسٹر معین خان نے کی۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیا غربت کے کلچر میں قید ہے، کارل مارکس نے برصغیر کے بارے میں لکھا کہ یہ علاقہ آخری علاقہ ہو گا جہاں معاشی انقلاب یا تبدیلی آئے گی۔
الزامات کی تفصیلات
یاد رہے کہ ایک برطانوی نژاد پاکستانی خاتون نے دعویٰ کیا تھا کہ کرکٹر نے مانچسٹر کے ہوٹل میں ان کے ساتھ زیادتی کی۔ خاتون کے مطابق ان کی پہلی ملاقات 23 جولائی کو مانچسٹر میں اور دوسری یکم اگست کو کینٹ کے علاقے ایشفورڈ میں ہوئی تھی۔ انہوں نے شکایت 4 اگست کو درج کرائی، جس پر پولیس نے اسی روز 24 سالہ کھلاڑی کو گرفتار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ اسمبلی میں سحر و افطار کے دوران گیس لوڈشیڈنگ نہ کرنے کی قرارداد منظور
پاسپورٹ کی واپسی
ذرائع کا کہنا ہے کہ اب حیدر علی کا پاسپورٹ واپس کر دیا گیا ہے اور وہ جب چاہیں برطانیہ چھوڑ سکتے ہیں۔ تفتیش کے دوران حیدر علی نے اپنے بیان میں الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ خاتون کو ذاتی طور پر جانتے ہیں اور ان کے ساتھ دوستانہ تعلقات تھے، اس لیے یہ الزام ان کے لیے حیران کن تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بشریٰ بی بی عمران خان کو دھوکا دینے کا سوچ بھی نہیں سکتیں: مریم وٹو
پی سی بی کی کارروائی
یاد رہے کہ انہیں کینٹ کے سپٹ فائر کاؤنٹی کرکٹ گراؤنڈ سے حراست میں لیا گیا تھا۔ تحقیقات شروع ہونے پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے انہیں عبوری طور پر معطل کر دیا تھا۔
حیدر علی کی کرکٹ کیریئر
حیدر علی اب تک پاکستان کی جانب سے 35 ٹی ٹوئنٹی اور دو ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیل چکے ہیں۔








