دریائے راوی میں سیلابی صورتحال کے حوالے سے بھارت کا پاکستان سے 24 گھنٹے میں دوسرا رابطہ
بھارتی سفارتی رابطے
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارت نے دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال کے حوالے سے پاکستان سے سفارتی سطح پر 24 گھنٹے میں دوسرا رابطہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: این اے 129 ضمنی الیکشن، مسلم لیگ ن کے ٹکٹ کی افواہوں پر حماد اظہر کی طرف سے وضاحت آگئی
سیلابی حالت کی اطلاع
ڈان نیوز کے مطابق وزارت آبی وسائل کے مطابق بھارتی ہائی کمیشن نے پاکستان کو دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال سے آگاہ کیا ہے، دریائے ستلج میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: زمبابوے نے سری لنکا کو 67 رنز سے مات دے دی
انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ
وزارت آبی وسائل کے مطابق دریائے ستلج میں ہر یک اور فیروز پور کے مقامات پر سیلاب کا خدشہ ہے، 4 ستمبر کو دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے کا امکان ہے۔ وزارت آبی وسائل نے 28 اہم محکموں کو انتباہی خط جاری کرتے ہوئے دریائے ستلج کی سیلابی صورتحال کے حوالے سے آگاہ کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مصر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر اضافہ
پہلا رابطہ
واضح رہے کہ بھارت نے گزشتہ روز بھی دریائے ستلج کی سیلابی صورتحال کے حوالے سے سفارتی سطح پر پاکستان سے رابطہ کیا تھا، جس کے بعد وزارت آبی وسائل نے ہنگامی الرٹ جاری کرتے ہوئے دریائے ستلج پر فیروز پور کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سپر 8 مرحلے کے میچ میں جنوبی افریقہ کی انڈیا کے خلاف بیٹنگ جاری ہے
پچھلے رابطے کی تفصیلات
یاد رہے کہ اس سے قبل 25 اگست کو بھی بھارت نے سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد کیے بغیر پاکستان سے مئی میں ہونے والی جنگ کے بعد پہلی بار سرکاری سطح پر رابطہ کرتے ہوئے دریائے توی میں جموں کے مقام پر سیلاب کی پیشگی اطلاع دی تھی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق بھارت نے دریائے توی میں جموں کے مقام پر ممکنہ بڑے سیلاب سے پاکستان کو آگاہ کیا تھا، سیلاب کی ممکنہ صورتحال سے بھارتی ہائی کمیشن اسلام آباد کی جانب سے آگاہ کیا گیا تھا۔
حکومتی اقدامات
بھارت کی طرف سے ممکنہ سیلاب کی صورتحال کی پیشگی اطلاع دی گئی تھی، حکومت نے بھارت سے موصولہ معلومات کی روشنی میں الرٹ جاری کر دیا تھا۔








