دریائے راوی میں سیلابی صورتحال کے حوالے سے بھارت کا پاکستان سے 24 گھنٹے میں دوسرا رابطہ
بھارتی سفارتی رابطے
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارت نے دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال کے حوالے سے پاکستان سے سفارتی سطح پر 24 گھنٹے میں دوسرا رابطہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: New Petition Filed Against Proposed Constitutional Amendments in Supreme Court
سیلابی حالت کی اطلاع
ڈان نیوز کے مطابق وزارت آبی وسائل کے مطابق بھارتی ہائی کمیشن نے پاکستان کو دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال سے آگاہ کیا ہے، دریائے ستلج میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یو اے ای کے وزیر خارجہ 2 روزہ دورہ پر آج پاکستان پہنچیں گے
انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ
وزارت آبی وسائل کے مطابق دریائے ستلج میں ہر یک اور فیروز پور کے مقامات پر سیلاب کا خدشہ ہے، 4 ستمبر کو دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے کا امکان ہے۔ وزارت آبی وسائل نے 28 اہم محکموں کو انتباہی خط جاری کرتے ہوئے دریائے ستلج کی سیلابی صورتحال کے حوالے سے آگاہ کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے بجٹ میں فضائی آلودگی کا خاتمہ اور صفائی، حکومت کی بڑی ترجیحات، لوگ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟ دیکھیے
پہلا رابطہ
واضح رہے کہ بھارت نے گزشتہ روز بھی دریائے ستلج کی سیلابی صورتحال کے حوالے سے سفارتی سطح پر پاکستان سے رابطہ کیا تھا، جس کے بعد وزارت آبی وسائل نے ہنگامی الرٹ جاری کرتے ہوئے دریائے ستلج پر فیروز پور کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ملتان میں بیگم کا شوہر پر جسمانی تعلقات کے دوران جنسی تشدد کا الزام، خاتون زخمی، پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا
پچھلے رابطے کی تفصیلات
یاد رہے کہ اس سے قبل 25 اگست کو بھی بھارت نے سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد کیے بغیر پاکستان سے مئی میں ہونے والی جنگ کے بعد پہلی بار سرکاری سطح پر رابطہ کرتے ہوئے دریائے توی میں جموں کے مقام پر سیلاب کی پیشگی اطلاع دی تھی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق بھارت نے دریائے توی میں جموں کے مقام پر ممکنہ بڑے سیلاب سے پاکستان کو آگاہ کیا تھا، سیلاب کی ممکنہ صورتحال سے بھارتی ہائی کمیشن اسلام آباد کی جانب سے آگاہ کیا گیا تھا۔
حکومتی اقدامات
بھارت کی طرف سے ممکنہ سیلاب کی صورتحال کی پیشگی اطلاع دی گئی تھی، حکومت نے بھارت سے موصولہ معلومات کی روشنی میں الرٹ جاری کر دیا تھا۔








