ریڑھ کی ہڈی کے آپریشن شدہ مریض کی گرفتاری، سپریم کورٹ کا اظہارِ برہمی
سوات پولیس کی کارروائی پر سپریم کورٹ کا ردعمل
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ریڑھ کی ہڈی کے آپریشن شدہ مریض کو سوات پولیس کی جانب سے ہسپتال سے گرفتار کرنے پر سپریم کورٹ نے خیبر پختونخوا پولیس پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاک فضائیہ نے عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کیا،صدر مملکت کارائل انٹرنیشنل ایئر ٹیٹو شو میں ایوارڈ جیتنے پرخصوصی پیغام
عدالت کی سماعت
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں شوہر کے تشدد کا شکار نئی نوبیاهتادلہن دوران علاج دم توڑ گئی
پولیس کی کاروائی پر سوالات
روزنامہ جنگ کے مطابق دوران سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ کیا پولیس نے مریض کی گرفتاری سے قبل اسپتال یا ڈاکٹر سے اجازت لی؟ کیا پولیس بستر پر موجود مریض کو ایسے گرفتار کر سکتی ہے؟ ملزم کا ریڑھ کی ہڈی کا آپریشن ہوا تھا جس کے بعد ملزم چل نہیں سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ؛شادمان میں گھریلو جھگڑے پر شوہر نے بیوی کو قتل کر دیا
جسٹس شہزاد ملک کے ریمارکس
جسٹس شہزاد ملک نے ریمارکس دیے کہ کے پی پولیس نے رپورٹ میں لکھا کہ ملزم آپریشن کے بعد صحتیاب نہیں تھا، ملزم برا انسان ہوگا لیکن اس کے کچھ حقوق بھی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی مصنوعات کی برآمدات میں سات ماہ کے دوران 1.34 ارب ڈالر کمی ریکارڈ، ٹیکسٹائل اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں استحکام برقرار
سرکاری وکیل کا موقف
سرکاری وکیل نے کہا کہ آج کل تو آپریشن کے دوسرے دن مریض چلنے پھرنے لگ جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت کشیدگی، نظریں نوازشریف پر مرکوز
عدالت کی مزید کارروائی
جس پر جسٹس شہزاد ملک نے وکیل سے کہا کہ وکیل صاحب ہر کوئی سلطان راہی نہیں ہوتا، ایسا فلموں میں ہوتا ہے جہاں گولیاں لگنے کے بعد بھی ہیرو اٹھ کر کھڑا ہو جاتا ہے۔
سماعت کا فیصلہ
عدالت نے درخواست ضمانت پر ملزم کی فرانزک رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 2 ہفتوں تک ملتوی کر دی۔








