ریڑھ کی ہڈی کے آپریشن شدہ مریض کی گرفتاری، سپریم کورٹ کا اظہارِ برہمی
سوات پولیس کی کارروائی پر سپریم کورٹ کا ردعمل
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ریڑھ کی ہڈی کے آپریشن شدہ مریض کو سوات پولیس کی جانب سے ہسپتال سے گرفتار کرنے پر سپریم کورٹ نے خیبر پختونخوا پولیس پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: میرا خیال ہے بھارت کا ادھار چکا دینا چاہیے ،ہم خود بھی کوئی ابتدا ءکرسکتے ہیں:خواجہ آصف
عدالت کی سماعت
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: سیکرٹری پیٹرولیم مومن آغا کی ساس کا انتقال، مرحومہ کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی شام ساڑھے پانچ بجے جی او آر ون میں ہوگی
پولیس کی کاروائی پر سوالات
روزنامہ جنگ کے مطابق دوران سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ کیا پولیس نے مریض کی گرفتاری سے قبل اسپتال یا ڈاکٹر سے اجازت لی؟ کیا پولیس بستر پر موجود مریض کو ایسے گرفتار کر سکتی ہے؟ ملزم کا ریڑھ کی ہڈی کا آپریشن ہوا تھا جس کے بعد ملزم چل نہیں سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب بھر میں ٹرانسپورٹرز کی پہیہ جام ہڑتال، متعدد بس اڈے بند، مسافر پریشان
جسٹس شہزاد ملک کے ریمارکس
جسٹس شہزاد ملک نے ریمارکس دیے کہ کے پی پولیس نے رپورٹ میں لکھا کہ ملزم آپریشن کے بعد صحتیاب نہیں تھا، ملزم برا انسان ہوگا لیکن اس کے کچھ حقوق بھی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت چھاتی کے سرطان سے نمٹنے کے لیے جامع اقدامات کر رہی ہے، صدر مملکت
سرکاری وکیل کا موقف
سرکاری وکیل نے کہا کہ آج کل تو آپریشن کے دوسرے دن مریض چلنے پھرنے لگ جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مولانا فضل الرحمان کو بھی معلوم نہیں کہ انہوں نے آئینی ترمیم میں کیا مسودہ فائنل کیا، عمر ایوب
عدالت کی مزید کارروائی
جس پر جسٹس شہزاد ملک نے وکیل سے کہا کہ وکیل صاحب ہر کوئی سلطان راہی نہیں ہوتا، ایسا فلموں میں ہوتا ہے جہاں گولیاں لگنے کے بعد بھی ہیرو اٹھ کر کھڑا ہو جاتا ہے۔
سماعت کا فیصلہ
عدالت نے درخواست ضمانت پر ملزم کی فرانزک رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 2 ہفتوں تک ملتوی کر دی۔








