اسکی ایک عجیب کمزوری تھی، خاتون نے راستہ روکتے کہا”آپ باہر تب جا سکتے ہو جب آئی لو یو کہو گے“اُسے اوکھے سوال میں ڈال دیا تھا
شہزاد احمد حمید کا کالم
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 279
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت نے 27ویں آئینی ترمیم کے لیے قانونی مسودے کا خاکہ تیار کرلیا
عارف کی عجیب کمزوری
بات کے پکے اس انسان کی ایک عجیب کمزوری تھی کہ ویک اینڈ پر بھی کم ہی گھر جاتا تھا۔ اگر جاتا بھی تو دفتر کے کسی کلرک کو حکم دے کر آتا کہ “اتوار والے دن 11 بجے فون کرکے واپس دفتر آنے کا کہو گے۔” فون آتا؛ “سر! ڈی سی صاحب یاد کر رہے ہیں”۔ ڈی سی کو اول فول کہتا اور اتوار کی دوپہر ختم ہونے سے پہلے ہی دفتر پہنچ جاتا۔ ایسا کیوں کرتا تھا، معمہ ہی ہے۔ کہتے ہیں شاید گھر والی سے ڈرتا تھا۔ ڈرتے سب ہی ہیں مگر “اتنا” صرف عارف ہی ڈرتا تھا۔ واللہ عالم۔
یہ بھی پڑھیں: اخبارات بنیادی ذرائع ابلاغ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، بلاول بھٹو زرداری کا نیشنل نیوز پیپر ریڈرشپ ڈے کے موقع پر پیغام
عارف کی شرافت کی مثال
اس کی سادگی اور شرافت کا ایک واقعہ بھی سنتے جائیں۔ یہ ٹانڈانوالہ (گجرات، اعوان شریف کا قریبی تھانہ) پوسٹڈڈ تھا۔ وہاں نئی “روشنی سکیم” کے تحت بالغوں کی تعلیم کے لئے سنٹر کھو لے گئے تھے جن میں خواتین اساتذہ پڑھاتی تھیں۔ موصوف ان خواتین اساتذہ کی میٹنگ کر رہے تھے جب میٹنگ ختم ہوئی تو سبھی خواتین، ماسوائے ایک کے، دفتر سے باہر چلی آئیں۔ یہ جب باہر نکلنے لگا تو بیٹھی خاتون نے اپنی ٹانگ کرسی پر رکھ کر اس کا راستہ روکتے کہا؛ “آپ باہر تب جا سکتے ہو جب مجھے I love you کہو گے۔” خاتون نے اسے اوکھے سوال میں ڈال دیا تھا۔
بہرحال خود سناتا ہے؛ “مجھے اس خاتون سے ہاتھ ملانا پڑا اور 3 دفعہ یہ جھوٹا وعدہ بھی کرنا پڑا کہ ہماری دوستی پکی۔” اس کے بعد میں ہمیشہ میٹنگ ختم کرنے سے پہلے اٹھ کر دفتر کے دروازے پر آتا اور وہاں کھڑا ہو کر کہتا “میٹنگ ختم ہوئی۔” یوں دوبارہ کوئی بھی نازک ٹانگ والی ان کا راستہ نہ روک سکی تھی۔ دراصل یہ ٹانگ عارف کے لئے بارودی سرنگ تھی جسے پھاڑنا یا اپنی جان گنوانے کا اسے کوئی شوق نہ تھا۔ اسے عارف کی شرافت سمجھ لیں یا کچھ اور، جو بھی پڑھنے والے کے من میں آئے۔
یہ بھی پڑھیں: اعجاز چودھری پر سازش کا الزام ابھی ثابت نہیں ہوا، سپریم کورٹ نے ضمانت منظوری کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا
حلقہ بندی اور الیکشنز
حلقہ بندی کے لئے ٹیم کا انتخاب کیا اور اس ٹیم نے ذمہ داری راز داری سے نبھائی۔ ابتدائی حلقہ بندی مکمل کرکے ضلعی دفتر بھجوا دی اور قانون کے مطابق تحصیل میں نمایاں جگہوں پر عوام کی اطلاع کے لئے اویزاں بھی کر دی۔ اے سی فیروز والا وجیہ اللہ کنڈی کو بھی کام سے مطلع رکھتا۔ مقررہ تاریخ تک عوام کی طرف سے موصولہ اعتراضات اور تجاویز موصول کئے۔ فیروز والا کی حد تک بہت کم ہی اعتراضات دائر ہوئے تھے۔ اعتراضات اور تجاویز پر ہوئے فیصلوں کو حتمی حلقہ بندی میں شامل کرکے اگلے مرحلے کے لئے حکومت کو بھجوا دیا۔
اسی دوران الیکشن کا شیڈول بھی جاری ہو چکا تھا۔ اب اگلے مرحلے کی تیاری تھی جس میں الیکشن سٹاف کی فہرست جمع کرنا، پولنگ سکیم ترتیب دینا، الیکشن عملہ کی ڈیوٹی لگانا، ٹرانسپورٹ پلان تیار کرنا، الیکشن کا سامان وصول کرنا، الیکشن بیگ تیار کرنا، بیلٹ پیپرز کولیکٹ کرنا، بیگز میں ڈالنا، سامان کی ترسیل اور الیکشن سٹاف کو ان کے پولنگ سٹیشن روانہ کرنا وغیرہ۔ (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








