بحیرۂ احمر میں زیرِ سمندر کیبلز کٹنے سے ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں انٹرنیٹ متاثر
انٹرنیٹ سروس میں خلل
اسلام آباد/دبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بحیرۂ احمر میں زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز کٹنے کے باعث ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک میں انٹرنیٹ سروس میں خلل پیدا ہوگیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ واقعہ ہفتے کو پیش آیا تاہم اس کی اصل وجہ تاحال سامنے نہیں آسکی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان بحرِ ہند میں سمندری تعاون کے فروغ کیلئے پرعزم ہے: صدر مملکت
مائیکروسافٹ کا اعلان
العربیہ کے مطابق ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ نے اعلان کیا کہ اس کے Azure پلیٹ فارم کے صارفین کو انٹرنیٹ کے استعمال میں تاخیر کا سامنا ہوسکتا ہے کیونکہ بحیرۂ احمر میں متعدد فائبر کیبلز کٹ گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جاپان میں خوفناک زلزلہ، ریکٹر سکیل پر شدت 6.1 ریکارڈ
حوثی جنگجووں کا خدشہ
یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ یمن کے حوثی جنگجو شاید بحیرۂ احمر میں کیبلز کو نشانہ بنا کر دباؤ ڈالنے کی مہم چلا رہے ہیں تاکہ اسرائیل کو غزہ میں جنگ ختم کرنے پر مجبور کیا جا سکے، تاہم حوثیوں نے ماضی میں ایسے حملوں کی تردید کی ہے。
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ سے جنگ بندی کی درخواست بھارت سے کس رہنما نے کی تھی؟ امریکی ڈیفنس یونیورسٹی کے پروفیسر کا تہلکہ خیز انکشاف
نیٹ بلاکس کی رپورٹ
انٹرنیٹ مانیٹرنگ ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق "بحیرۂ احمر میں متعدد زیرِ سمندر کیبلز کے متاثر ہونے سے کئی ممالک میں انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کمزور ہوئی ہے"، جن میں بھارت اور پاکستان بھی شامل ہیں۔ ادارے نے بتایا کہ یہ مسئلہ جدہ، سعودی عرب کے قریب SMW4 اور IMEWE کیبل سسٹمز میں خرابی کے باعث پیدا ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور بھارت خوش ہیں، تجارت پر کام ہورہا ہے:ٹرمپ
کیبلز کی انتظامیہ
SMW4 کیبل بھارتی کمپنی ٹاٹا کمیونی کیشنز کے زیرِ انتظام ہے جبکہ IMEWE کیبل ایک بین الاقوامی کنسورشیم کے تحت چلائی جاتی ہے جس کی نگرانی الکاٹیل-لوسینٹ کر رہی ہے۔ دونوں کمپنیوں نے اس پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
PTCL کی تصدیق
پاکستان ٹیلی کمیونی کیشنز کمپنی لمیٹڈ (PTCL) نے بھی تصدیق کی کہ بحیرۂ احمر میں زیرِ سمندر کیبلز کے کٹنے سے انٹرنیٹ متاثر ہوا ہے۔








