پی ٹی آئی کا بائیکاٹ اپنے ممبران پر عدم اعتماد ہے: رانا ثناء اللہ
رانا ثناء اللہ کا بیان
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) مسلم لیگ ن کے رہنما اور مشیر وزیراعظم رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ اپوزیشن اراکین نے رابطہ کر کے مجھے ووٹ دینے کا کہا، پی ٹی آئی کا بائیکاٹ اپنے ممبران پر عدم اعتماد ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اٹک؛ پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت سمیت 15ہزار نامعلوم کارکنان کیخلاف مقدمہ درج
پی ٹی آئی کا غیر جمہوری رویہ
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا رویہ غیر جمہوری اور غیر سیاسی ہے۔ بانی پی ٹی آئی اور ان کی اندھی تقلید کرنے والے صرف فتنہ و فساد اور انتشار چاہتے ہیں۔ حکومت یا کسی ادارے کو نہیں، پوری قوم کو ان کا راستہ روکنا چاہیے، پی ٹی آئی کے پاس راہ فرار کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کا برسلز کا تاریخی دورہ
ووٹنگ کے حوالے سے رابطے
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے 10 سے 12 لوگوں نے مجھ سے ووٹ ڈالنے کیلئے رابطہ کیا، میں نے انہیں منع کیا کہ مجھے نہیں، اپنے امیدوار کو ووٹ ڈالیں۔
یہ بھی پڑھیں: ریلوے پولیس نے گھر سے بھاگے 658 لڑکوں، لڑکیوں کو پکڑ کر ورثا کے حوالے کر دیا
بدتمیزی کا کلچر
ان کا کہنا تھا کہ اس جماعت نے ایک پالیسی کے طور پر لعن طعن کے کلچر کو اپنایا، اور مخالف کو دیکھ کر گالیاں دینا ان کی عادت بن گئی۔ بانی پی ٹی آئی کو شرف حاصل ہے کہ تاریخ میں شاید وہ پہلے لیڈر ہیں جنہوں نے بطور پالیسی اوئے توئے کے کلچر کو اپنایا۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ بلوچستان: مقتولہ بانو بی بی، ان کے شوہر کا شناختی کارڈ، بچوں کا ب فارم منظر عام پر آگیا۔
سیاست اور مذاکرات
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے بطور پالیسی اپنے لوگوں کو مجبور کیا کہ مخالف کو دیکھیں تو چور کہیں۔ یہ سیاسی رویہ اپنائیں تو ہم سیاست کے لئے حاضر ہیں۔ وزیراعظم خود چل کر گئے ہیں اپوزیشن کے پاس کہ آئیں، ہم بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں۔ سیاست ہمیشہ مذاکرات سے آگے بڑھتی ہے، ڈیڈ لاک سے نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں فیض کی مشہور نظم ’ہم دیکھیں گے‘ گانا ’بغاوت‘ قرار، ایک تقریب کے منتظمین کے خلاف مقدمہ درج۔
بیرونی خطرات اور قیادت کی ذمہ داری
ان کا کہنا تھا کہ ملک کو جب بیرونی خطرات لاحق تھے تو بانی پی ٹی آئی سننے کو تیار نہیں تھے۔ معرکہ حق کی کامیابی سیاسی اور عسکری قیادت کے اتفاق رائے سے ممکن ہوئی، جو پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار نظر آئی۔
یہ بھی پڑھیں: آٹے کی قیمتوں میں ملی بھگت سے اضافہ، پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کو ساڑھے 3 کروڑ جرمانہ
علیمہ خان کا واقعہ
مشیر وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ علیمہ خان کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی جیل میں ہیں اور ان کا جو حق ہے وہ ان کو مل رہا ہے۔ ہمارا گلہ پی ٹی آئی سے ہے کہ انہوں نے بدتمیزی کے کلچر کو بطور پالیسی اپنایا۔
ضمنی انتخاب کی صورتحال
یاد رہے کہ پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی رہنما اعجاز چودھری کی نااہلی کے بعد خالی ہونے والی سینیٹ نشست پر ضمنی انتخاب آج ہو رہا ہے، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے ووٹ کاسٹ نہ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے.








