مودی سے 50 ہزار بھارتی شہریوں کو جاپان لانے کا معاہدہ کیوں کیا؟ جاپانی عوام بھڑک اٹھے
نریندر مودی کا جاپان دورہ
ٹوکیو(مانیٹرنگ ڈیسک ) نریندر مودی سے 50 ہزار بھارتی شہریوں کو جاپان لانے کا معاہدہ کیوں کیا؟ جاپانی عوام بھڑک اٹھے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ سے مذاکرات ہوں یا دباؤ بڑھایا جائے، میزائل پروگرام پر کوئی بات نہیں ہوگی: ایران کا دو ٹوک مؤقف
معاہدے کی تفصیلات
تفصیلات کے مطابق جاپان اور بھارت کے درمیان بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے حالیہ دورۂ جاپان کے دوران ہونے والے معاہدے کے تحت 50 ہزار بھارتی شہریوں کو جاپان لانے کے منصوبے پر جاپانی عوام کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صحرا کی سفید پوش لوگ دل کے امیر اور میزبانی کے بادشاہ ہیں، مہمان کے لیے بچھ ہی جاتے ہیں، صحرا کی ’گندی‘ آج بھی بطور نشانی میرے پاس محفوظ ہے۔
جاپانی حکومت کا موقف
’’جنگ‘‘ کے مطابق جاپانی حکومت نے اس منصوبے کو بھارت کے ساتھ ورک فورس اور ٹیکنیکل تعاون کے معاہدے کے طور پر پیش کیا تھا، تاہم جاپانی عوام نے اس پر احتجاجی مظاہرے شروع کر دیئے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جاپان میں پہلے ہی بڑھتی ہوئی معاشی اور سماجی مشکلات کا سامنا ہے، ایسے میں بڑی تعداد میں غیر ملکیوں کو بلانے سے جاپانی عوام کی فلاح و بہبود اور ثقافت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ سب سے پہلے جاپانی شہریوں کے لیے روزگار، سہولیات اور فلاحی منصوبوں کو یقینی بنائے۔
احتجاجی مظاہرے
مظاہرین نے واضح الفاظ میں کہا کہ غیر ملکیوں کی آمد سے جاپانی ثقافت کو خطرہ لاحق ہے اور یہ معاہدہ عوامی خواہشات کے برعکس ہے۔ عوامی دباؤ کے بعد امکان ہے کہ حکومت کو اس منصوبے پر نظرثانی کرنا پڑے۔








