انڈین ٹی وی اینکر انجنا کیشپ کو مسلم مخالف بیانات مہنگے پڑ گئے، مقدمہ درج
بھارتی عدالت کا فیصلہ
نئی دہلی(ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارتی عدالت نے مسلم مخالف جذبات کو ہوا دینے پر معروف ٹی وی اینکر انجنا کیشپ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گاڑیوں کی خرید و فروخت کے لیے بایو میٹرک، نادرا ٹیکنالوجیز کے تعاون سے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب کا نیا ڈیجیٹل نظام متعارف کرا دیا گیا
مقدمے کی تفصیلات
یہ مقدمہ ریٹائرڈ پولیس افسر امیتابھ ٹھاکر کی درخواست پر درج کرنے کا حکم دیا گیا، جنہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ انجنا کیشپ نے اپنے پروگرام میں بھارتی مسلمانوں کو ’’ناپسندیدہ بوجھ‘‘ کے طور پر پیش کیا اور ان کے خلاف نفرت انگیز جذبات بھڑکائے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان بنگلہ دیش ٹی 20 سیریز کے شیڈول میں ردوبدل
متنازعہ بیان
رپورٹ کے مطابق 14 اگست کو انجنا کیشپ نے اپنے پروگرام ’’ہندوستان کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا‘‘ میں کہا تھا کہ 1947 میں 4 کروڑ بھارتی مسلمانوں میں سے صرف 96 لاکھ پاکستان گئے۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب تقسیم مذہب کی بنیاد پر تھی تو باقی مسلمان بھارت میں کیوں رہ گئے؟
درخواست میں مؤقف
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ اینکر کا یہ بیان ’’زہریلا، تفرقہ انگیز اور مسلمانوں کے خلاف عدم برداشت کو ہوا دینے والا‘‘ ہے، جس سے فرقہ وارانہ منافرت پھیلنے کا خدشہ ہے۔








